مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 147
147 اسی طرح یہ صاحب فرماتے ہیں: سوراج پارٹی کا اصول ہونا چاہئے کہ ہر ہندوستانی بچہ کو قومی رتن دیئے جائیں خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی۔اگر کوئی فرقہ ان کے لینے سے انکار کرے اور ملک میں دور نگی پھیلائے تو اس کی قانونی طور پر ممانعت کر دی جائے۔یا اس کو عرب کے ریگستان میں کھجوریں کھانے کے لئے بھیج دیا جائے۔ہمارے ہندوستان کے آم، کیلے اور نار نگیاں کھانے کا انہیں کوئی حق نہیں۔ملاپ " 23 جون 1928ء) یہی لالہ ہر دیال صاحب ایک اور موقع پر فرماتے ہیں: ” میں کہتا ہوں کہ ہندو اور ہندوستان اور پنجاب کا مستقبل ان چار آدرشوں (نصب العین) پر منحصر ہے۔یعنی (۱) ہندو سکھٹن (۲) ہندوراج (۳) اسلام اور عیسائیت کی شدھی (۴) افغانستان اور سرحد کی فتح اور شُدھی۔“ اگر ہندوؤں کو اپنی رکھشا کرنی منظور ہے تو خود ہاتھ پاؤں ہلانے پڑیں گے اور مہاراجہ رنجیت اور سردار ہری نلوہ کی یادگار میں افغانستان اور سرحد کو فتح کر کے تمام پہاڑی قبیلوں کی شدھی کرنی ہو گی۔اگر ہندواس فرض سے غافل رہیں گے تو پھر اسلامی حکومت ہندوستان میں قائم ہو جائے گی۔“ پھر یہی صاحب فرماتے ہیں: ” جب تک پنجاب اور ہندوستان بدیشی مذہبوں (یعنی عیسائیت اور اسلام) سے پاک نہ ہو گا تب تک ہمیں چین سے سونا نہیں ملے گا۔جو ہند واس آدرش ( مقصد ) کو نہیں مانتا وہ کپوت ہے، بے جان ہے ، مردہ دل ہے ، بے سمجھ ہے ، پر سچے ہندو کی یہ خواہش ہونی چاہیئے کہ اپنے دیش کو اسلام اور عیسائیت سے پاک کر دے۔“ (اخبار تیج دہلی) مہاشہ کرشن در نیکر پریس (Vernacular Press) کے سب سے بڑے مالکوں میں سے ہیں۔اور آریہ پرتی مذہبی سبھا کے اہم ترین ممبروں میں سے ہیں۔وہ لکھتے ہیں: اب وقت دور نہیں سمجھنا چاہئے جبکہ اسلام ہمیشہ کے لئے سر زمین ہند سے غائب ہو جائے گا اور جو شخص خواہ وہ مہاتما گاندھی بھی کیوں نہ ہو۔ایسے اسلام کی اشاعت یا ڈیفنس (Defence) میں بالواسطہ یا غیر واسطہ مدد دے گا وہ ملک اور