مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 143
143 تیرھویں فصل سٹالن دور حکومت اور ہند وراج کے منصوبہ کی نئی لہر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی چشم کشا تحریر لینن کی زندگی کے آخری سال سٹالین (1953ء۔1879ء) کمیونسٹ پارٹی کا سیکر ٹری جنرل منتخب ہوا اور لینن کی وفات کے بعد ٹراٹسکی اور زنیو وی اف کی شراکت میں لینن کا جانشین بنا اور اپنے دو بڑے حریفوں ٹراٹسکی اور زنیو وی اف کو پارٹی سے نکال باہر کیا اور خود کمیونسٹ روس کا آمر بن گیا۔دسمبر 1925ء میں روس کی آل یونین کمیونسٹ پارٹی آف بالشویکس کی چودھویں کانگرس کا انعقاد ہوا جس میں پارٹی لین کے نظریاتی مقالہ کی بنیاد پر اس نتیجہ پر پہنچی کہ سوویٹ یونین کا محنت کش طبقہ کسانوں کے ساتھ مل کر اور بین الا قوامی پرولتاریہ کی اخلاقی اور سیاسی حمایت ہی سے سوشلزم کی مادی اور تکنیکی بنیاد بن سکتا ہے اور ایک بین الا قوامی سوشلسٹ سماج تعمیر کر سکتا ہے۔1 سٹالن کی وفات (1953ء) یعنی احراری مطالبہ اقلیت تک نسنی کمیونسٹ پارٹی جو 1903ء میں ایک چھوٹی سی انڈر گراؤنڈ پارٹی تھی۔اس کے ممبروں کی تعد اد لاکھوں تک جا پہنچی۔2 سٹالن کے بر سر اقتدار آنے کے قلیل عرصہ بعد ہندوستان میں خوفناک ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے۔کیونکہ آل انڈیا نیشنل کانگرس اور انتہا پسند ہندوؤں کی سوچی سمجھی سازش سے تحریک خلافت اور تحریک عدم موالات نے ایک طرف مسلمانوں کو معاشی طور پر بر بادی کے کنارے تک پہنچا دیا اور دوسری طرف ہندوستان میں سوشلسٹ انقلاب کی راہ ہموار ہو گئی۔اس لئے ہندو لیڈروں کے مسلمانان ہند کے خلاف ناپاک عزائم کھل کر سامنے آگئے۔جن کا ایک جامع خلاصہ اسی زمانہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنی معرکہ آراء کتاب ”ہندوستان کے موجودہ مسئلہ کا حل“ میں شائع فرمایا تھا۔حضور نے یہ شاہکار کتاب پہلی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے موقع پر رقم فرمائی تھی اور اس کا انگریزی ترجمہ لندن میں عین اس وقت پہنچا دیا گیا جبکہ کانفرنس کی کارروائی شروع ہونے والی تھی۔حضور نے تحریر فرمایا۔”مسٹر گاندھی نے 1918ء میں ایک تقریر کے دوران میں بیان کیا۔یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ یورپین کے لئے گاؤ کشی جاری رہنے کی بابت ہندو کچھ