مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 131 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 131

131 پورا پیرو سمجھتے تھے۔یورپ اور امریکہ کی طرح ہندوستان میں بھی اس رجحان کو سوویٹ یونین کی نشو و نما خصوصاً اس کے پنچ سالہ منصوبہ سے تقویت پہنچتی تھی۔مجھے اشتراکی کارکن کی حیثیت سے جو کچھ اہمیت حاصل تھی ، وہ اس وجہ سے تھی کہ میں ایک کانگریسی تھا اور کانگرس میں ایک بڑا عہدہ رکھتا تھا۔بعض اور مشہور کانگرسیوں پر بھی ان خیالات کا اثر ہو چلا تھا۔یہ چیز سب سے زیادہ صوبہ متحدہ کی کانگرس کمیٹی میں نمایاں تھی اور ہم نے 1926ء ہی میں اس کمیٹی میں ایک ہلکا سا اشترا کی پروگرام بنانے کی کوشش کی تھی۔“6 6" پنڈت نہرو اور ابوالکلام آزاد کے سوشلسٹ افکار سوشلسٹ ہونے کے ناطہ سے اسلام اور غیر کانگرسی مسلمانوں کا مذاق اڑانے میں ابوالکلام آزاد اور پنڈت نہر و دونوں ہم منصب بلکہ ایک جان دو قالب ہو گئے تھے۔پنڈت نہرو کی باطنی کیفیت و ذہنیت کا اندازہ کرنے کے لئے اُن کی ایک توہین آمیز تحریر کے چند الفاظ ملاحظہ ہوں : مسلم قومیت کا ذکر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ دنیا میں کوئی قوم ہی نہیں، صرف مذہبی اخوت کا رشتہ ایک چیز ہے اور اس لئے کوئی قوم (جدید مفہوم میں ) ترقی نہ کرنے پائے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید تہذیب و تمدن کو ترک کر کے ہم لوگ عہد وسطی کے طریقوں کو پھر اخیتار کریں یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ مطلق العنان حکومت یہاں رہنی چاہئے یابد یہی حکومت۔“ مسلم قوم کا تخیل تو صرف چند لوگوں کی من گھڑت اور محض پرواز خیال ہے۔اگر اخبارات اس کی اس قدر اشاعت نہ کرتے تو بہت تھوڑے لوگ اس سے واقف ہوتے اور اگر زیادہ لوگوں کو اس پر اعتقاد بھی ہو تا تو بھی حقیقت سے دو چار ہونے کے 7" بعد اس کا خاتمہ ہو جاتا۔“7 یہی سیاسی وعظ و تلقین جناب ابو الکلام آزاد کی عمر بھر کا مقدور حیات رہا۔فرماتے ہیں: ”اگر ایسے مسلمان دماغ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ اپنی گزری ہوئی تہذیب و معاشرت کو پھر تازہ کریں جو وہ ایک ہزار سال پہلے ایران اور وسط ایشیا سے لائے تھے تو میں اُن سے بھی کہوں گا کہ اس خواب سے جس قدر جلد بیدار ہو جائیں بہتر ہے۔کیونکہ یہ ایک قدرتی تخیل ہے اور حقیقت کی سرزمین میں ایسے خیالات آگ