مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 128
128 گیارھویں فصل لینن اور ہندوستان کے سوشلسٹ اب ہمیں یہ بتانا ہے کہ روس کے سرخ انقلاب کے بعد لینن نے 22 نومبر 1919ء کو دنیا بھر کی سوشلسٹ تنظیموں کی دوسری کل روسی کانگرس کو بتایا: و ہمیں معلوم ہے کہ 1905ء کے بعد ترکی، ایران اور چین میں انقلاب آئے اور ہندوستان میں بھی ایک انقلابی تحریک ابھری۔اسی طرح سامراجی جنگ میں بھی انقلابی جدوجہد کے لئے پوری نو آبادیاتی رجمنٹیں بھرتی کرنا پڑیں۔سامراجی جنگ نے مشرق کو بھی جھنجھوڑ دیا، چونکا دیا۔اور مشرق کی قوموں کو مسلح کیا اور انہیں فوجی تکنیک اور جدید ترین مشینوں سے روشناس کیا۔اس علم کو وہ سامراجی نوابوں کے خلاف استعمال کریں گی۔اس موجودہ انقلاب کے دوران میں مشرق کی قوموں کی بیداری کا دور ختم ہو کر اب ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔“ ہندوستان میں انقلابی تحریک کے خصوصی تذکرہ کے بعد لینن نے کہا۔”عالمی انقلاب کے ارتقا کی تاریخ میں اور انقلاب کے آغاز کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ابھی اور کئی سال چلے گا اور اس کے سلسلے میں بڑی کوشش اور جاں فشانی کی ضرورت ہو گی۔انقلابی جد جہد میں اور انقلابی تحریک میں آپ لوگوں کو اہم رول ادا کرنا ہے اور اس انقلابی جدوجہد کا بین الاقوامی سامراج کے خلاف ہماری جد و جہد سے ناطہ جوڑنا ہے۔بین الا قوامی انقلاب میں شرکت آپ کے لئے ایک کٹھن اور پیچیدہ فریضہ لائے گی اور اس فریضے کی انجام دہی ہماری مشتر کہ کامیابی کے لئے بنیاد کا کام دے گی کیونکہ اس وقت زیادہ لوگ پہلی دفعہ چونک کر، بیدار ہو کر آزاد عمل اور حرکت کے میدان میں قدم رکھ رہے ہیں۔اور وہ بین الا قوامی سامراج کو نیست و نابود کرنے میں ایک سر گرم اور باعمل عنصر ہوں گے۔1