مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 93
93 سنبھل پور کر سکتا تھا۔اور مشرقی بنگال کے دیگر علاقے حکومت کی توجہ سے یکسر محروم رہتے۔ان مسائل کے حل کی خاطر بنگال کی تقسیم عمل میں آئی۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ لارڈ کرزن نے بنگال کی تقسیم کا فیصلہ کسی اور وجہ سے کیا۔ہوایوں کہ حکومت ہند نے اُڑ یا زبان (Uria) بولنے والوں کو جو کہ مختلف صوبوں میں آباد تھے ، ایک انتظامیہ کے تحت کرنے کا فیصلہ کیا۔سر انیڈ ریو فریزر نے 1901ء میں یہ مشورہ دیا کہ کو اڑیسہ کے ساتھ ملا کر اسے بنگال کی انتظامیہ کے ماتحت کر دیا جائے یا پھر تمام اڑیسہ کو سی پی کے حوالے کر دیا جائے۔1901ء میں سی پی کے چیف کمشنر نے اسے ڈسٹرکٹ سنبھل پور کی ذمہ داری سے فارغ کرنے کی درخواست کی۔اسی دوران حکومت مدراس نے بھی اپنے انتظامی معاملات کے بارے میں شکایت کی کیونکہ اس کے زیر انتظام نظم و نسق میں مختلف زبانیں تامل، اڑ یا اور ملیالم زیر استعمال تھیں۔چونکہ اس مسئلہ کے حل کی خاطر یہ تجویز کیا گیا کہ تمام اُڑیا بولنے والوں کو بنگال کے ساتھ منسلک کر دیا جائے۔لہذا بنگال کے انتظامی معاملات میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہونا لازمی امر تھا۔چنانچہ ڈھاکہ، میمن سنگھ اور چٹا گانگ کو آسام کے ساتھ ملانے کا فیصلہ کیا گیا۔1903ء کے آخر میں جب بنگالیوں کو اس تنظیم نو کا علم ہوا تو انہوں نے ان علاقوں کو آسام جیسے پسماندہ علاقے کے ساتھ ملحق کرنے پر زبر دست احتجاج کیا کیونکہ ان کے خیال میں ایسی صورت میں اس علاقے کے لوگ ان تمام سہولتوں سے محروم ہو جائیں گے جو ایک لیفٹیننٹ گورنر کے صوبے کو حاصل ہوتی تھیں۔فروری 1904ء میں لارڈ کرزن نے مشرقی بنگال کا دورہ کیا جہاں اس نے ڈھاکہ ، چٹاگانگ اور میمن سنگھ میں لوگوں کو یقین دلایا کہ حکومت اس نئے مجوزہ صوبے کو بڑا کر کے وہاں ایک قانون ساز اسمبلی اور بورڈ آف ریونیو قائم کرے گی۔نیز ڈھاکہ کونئے صوبے کا دارالحکومت بنا کر وہاں ایک لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا جائے گا۔چنانچہ انتظامی مسائل کے حل کی خاطر اس وسیع وعریض صوبے کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان 20 جولائی 1905ء کیا گیا اور 16 اکتوبر 1905ء کو نیا صوبہ معرض وجود میں آگیا۔اس نئے صوبے کا رقبہ 106500 مربع میل اور کل آبادی 31 ملین تھی جن میں دو تہائی مسلمان تھے۔صوبے میں آسام، مشرقی اور جنوبی بنگال، چٹا گانگ، ڈھاکہ، راجشاہی اور مالدہ ڈسٹرکٹ شامل کئے گئے۔ڈھا کہ نئے صوبے کا دارالحکومت قرار پایا۔صوبے کے لئے ایک قانون ساز اسمبلی اور بورڈ آف ریونیو قائم کئے گئے۔۔