مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 317 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 317

317 تیسویں فصل احمدیوں نے الیکشن 1970 ء میں اکثر ووٹ پیپلز پارٹی کو کیوں دیئے اب آخر میں طبعاً یہ سوال اٹھتا ہے کہ جماعت احمدیہ نے ملکی انتخاب دسمبر 1970ء میں اپنے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے خصوصی ارشاد پر اکثر ووٹ پیپلز پارٹی کو کیوں دیئے؟ دوسری مذہبی سیاسی پارٹیوں کو مسترد اور نظر انداز کرنے کا جواز کیا تھا۔بلاشبہ یہ نہایت اہم سوال ہے جس پر تین زاویہ نگاہ سے غور کیا جانا ضروری ہے۔اول: جنرل یحییٰ خاں نے انتخاب سے قبل دو ایسے اقدامات کئے جن سے مشرقی پاکستان کو پورے ملک پر سیاسی برتری حاصل ہو گئی۔ایک تو یہ کہ انہوں نے مغربی پاکستان کے ون یونٹ کو ختم کر دیا جس کے ٹوٹنے سے مغربی پاکستان کے سابق صوبے پنجاب، سندھ ، سرحد اور بلوچستان بحال ہو گئے۔دوسرے انہوں نے مشرقی پاکستان کے لیڈروں کا یہ مطالبہ منظور کر لیا کہ پاکستان کے دونوں حصوں میں نمائندگی برابر نہیں بلکہ آبادی کی بنیاد پر ہو۔چنانچہ انہوں نے 27 مارچ 1970ء کے آئین کے ڈھانچے (Legal Frame) میں تسلیم کیا کہ آئندہ انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد اور ”ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول پر ہوں گے۔مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ کے لیڈر شیخ مجیب الرحمن صاحب کے چھ نکات اور بیٹی حکومت کے لیگل فریم کے پیش نظر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی دور بین نگاہ نے بھانپ لیا کہ اگر کسی ایسی پارٹی کو کامیاب نہ کرایا گیا جس کے جڑیں چاروں صوبوں میں مضبوط ہوں ، پاکستان کا وجو د شدید خطرہ میں پڑ جائے گا۔اور چونکہ عوامی لیگ کو مغربی پاکستان سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ از حد بغض ہے اس لئے ممکن ہے وہ بنگال کی آزادی کا اعلان کر کے صوبوں کو بھی خود مختاری دے دیں اور ہر صوبہ ہمسایہ ملک میں سے کسی کے ساتھ الحاق کرلے جو یقینا پاکستان کی مکمل تباہی پر منتج ہو گا۔چنانچہ آپ کی مدبرانہ فراست و سیاست نے چاروں صوبوں میں ابھرنے والی نئی پارٹی کو ووٹ دلائے جس کا نتیجہ یہ بر آمد ہوا کہ جب 16 دسمبر 1970ء کو ملک کا مشرقی بازو عوامی لیگ اور اس کے حامی احرار لیڈروں کی ملی بھگت اور سازش سے کٹ گیا اور افواج پاکستان کے ترانوے ہزار سپاہی ہندوستان کے قبضہ میں چلے گئے تو پیپلز پارٹی کی بدولت مغربی پاکستان کے چاروں صوبے دوبارہ ایک مرکز تلے جمع ہو گئے اور کچھ عرصہ بعد پاکستانی فوج کے سپاہی آزاد ہو کر اپنے پیارے وطن میں آبرومندانہ طور پر پہنچ گئے۔اس طرح قافلہ پاکستان پھر سے رواں دواں ہو گیا۔بصورت دیگر خدا نخواستہ