مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 260 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 260

260 سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی تعلیم کو خواہ اس کا عقائد کا حصہ اور خواہ اخلاقی حصہ اور خواہ تدبیر منزلی اور سیاست مدنی کا حصہ اور خواہ اعمال صالحہ کی تقسیم کا حصہ ہو ، قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا۔اور یہ قول میرا اس لئے نہیں کہ میں ایک مسلمان شخص ہوں۔بلکہ سچائی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں گواہی دوں اور یہ میری گواہی بے وقت نہیں۔بلکہ ایسے وقت میں جب کہ دنیا میں مذاہب کی کشتی شروع ہے۔مجھے خبر دی گئی ہے کہ اس کشتی میں آخر اسلام کو فتح ہے۔میں زمین کی باتیں نہیں کہتا۔کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں۔بلکہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔زمین کے لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ شاید انجام کار عیسائی مذہب دنیا میں پھیل جائے یا بدھ مذہب دنیا پر حاوی ہو جائے۔مگر وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔یاد رہے کہ زمین پر کوئی بات ظہور میں نہیں آتی جب تک وہ بات آسمان پر قرار نہ پائے۔سو آسمان کا خد ا مجھے بتلاتا ہے کہ آخر اسلام کا مذہب دلوں کو فتح کرے گا۔75 پھر اپنے آخری مکتوب 23 مئی 1908ء میں یہ تحریر کر کے بالخصوص بابیوں اور بہائیوں پر اتمام حجت کر دی کہ ”میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا اور کسی کو مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا ایک شوشہ قرآن شریف کا منسوخ کر سکے۔“76 سر اقبال صاحب سید نا حضرت مسیح موعود کے وصال کے بعد تیس سال تک بقید حیات رہے۔لیکن اپنی تمام تر دماغی صلاحتوں کو بروئے کار لانے کے بعد حضرت مسیح موعود کے 1883ء کے چیلنج کے جواب میں ایک حرف تک نہ کہہ سکے۔اور نہ قرآن مجید کے کسی ایک حکم کی بھی نشان دہی کرنے میں کامیاب ہو سکے جسے عصر حاضر میں بدلنے کی ضرورت ہو اور ان کے جدید معاشرتی نظام کی بنیاد بن سکے۔یہ ہے قرآن کی علمبر دار تحریک احمدیت کے مقابل مذہب اقبال کا اصل اور حقیقی چہرہ جس کو اقبال کے پرستار نہاں در نہاں مصلحتوں کے باعث آج تک دبیز پر دوں میں چھپائے بیٹھے ہیں۔حواشی 1 روس میں مسلمان قومیں “صفحہ 100۔Dawn Over Samarkand بحوالہ ”روس میں مسلمان قومیں ، صفحہ ۴۱۲۔۴۱۳۔181۔cit۔p۔op۔2