مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 130 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 130

130 وو مزاج مسلمانوں اور ملک کے دیو بندی علماء کو اپنے گرد جمع کرنے کے جو کار ہائے نمایاں“ دکھلائے، اُن کی بدولت انہوں نے ہند و آل انڈیا نیشنل کانگرس میں ایک ممتاز مقام حاصل کر لیا اور وہ جواہر لال نہرو کی آنکھ کا تار بن گئے جو کانگرس کے سوشلسٹ ممبروں کے لیڈر تھے۔ان کی سوشل ازم سے وابستگی جنون کی حد تک پہنچی ہوئی تھی۔اور وہ اس کو ہندوستان کی نجات اور اس کی معاشی مسائل کا واحد حل ا سمجھتے تھے۔انہوں نے ایک بارالہ آباد میں منعقد ہونے والی انڈین اکنامکس کو خطاب کرتے ہوئے کہا: سوشلزم کے سوا ہماری اقتصادی نجات کا اور کوئی ذریعہ بھی نہیں۔سیاسی جمہوریت کا تجربہ بالکل ناکام ہو چکا ہے اور جب تک ہم اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی جمہوریت کو قائم نہیں کرتے، یہ تجربہ کا میاب نہیں ہو سکتا۔جمہوریت اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے کہ اس کی بنیاد سوشلزم پر رکھی جائے۔“ انہوں نے سینٹرل جیل نینی تال سے اپنی بیٹی اندرا گاندھی کے تیرھویں جنم دن کے موقع پر ایک خط میں لکھا: جس سال (1917ء) تم پیدا ہوئیں، وہ تاریخ کا ایک یاد گار سال تھا۔اسی سال ایک عظیم الشان لیڈر نے جس کا دل غریبوں کی محبت اور مظلوموں کی ہمدردی سے لبریز تھا، اپنے ملک کے لوگوں سے ایسا شان دار کام کرایا جو تاریخ کے اوراق سے کبھی مٹ نہیں سکتا۔ٹھیک اسی مہینہ میں جس میں تم پیدا ہوئیں، لینن نے وہ زبر دست انقلاب شروع کیا جس نے روس اور سائبیریا کا نقشہ بدل دیا۔5 4" خود پنڈت جی کا بیان ہے کہ :- میں ہندوستان میں اشتراکیت کا ہر اول نہیں تھا بلکہ سچ پوچھئے تو میں اس میدان میں بہت پیچھے تھا اور بڑی مشکل سے آہستہ آہستہ قدم اٹھایا تھا۔بہت سے لوگ مجھ سے آگے نکل چکے تھے اور میں اُن کے روش نقش قدم پر چل رہا تھا۔مزدوروں کی اشتراکیت کی تحریک اور نوجوانوں کی اکثر انجمنیں اصولاً صریح طور پر اشتراکیت کی حامی تھیں۔ہندوستان میں اشتراکیت کی ایک دھندلی سی فضا چھائی ہوئی تھی اور بعض افراد اس سے بھی پہلے اشتراکی خیالات رکھتے تھے۔زیادہ تر یہ لوگ خیالی دنیا میں رہتے تھے مگر مارکس کے نظریہ کا اثر روز بروز بڑھتا جاتا تھا اور چند اشخاص اپنے آپ کو مار کس کا