مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 119 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 119

119 نویں فصل دیوبند۔سوشلزم اور غدر پارٹی کا مرکز جناب آزاد نے نہ صرف خود غدر پارٹی کی حیثیت ہی سے انقلابی کارنامے انجام دئے بلکہ اُن کی کوشش سے دارالعلوم دیو بند بھی غدر پارٹی، سوشلزم اور کانگرس کی سرگرمیوں اور مخفی منصوبوں کا مضبوط مرکز بن گیا اور ہندو کانگرس کو اپنے ایجنٹوں کی فوج ہاتھ آگئی اور اندورن ملک فساد برپا کرنے کی شرعی اور مذہبی سند بھی فراہم ہو گئی۔چنانچہ سوشلسٹ انقلابی مولانا حسین احمد دیوبندی اپنے سیاسی استاد مولانامحمود الحسن (شیخ الہند) کے اصل چہرے سے نقاب اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں۔" حضرت شیخ الہند نے ایک مستقل مکان اپنے مکان کے قریب کرایہ پر لے رکھا تھا جس کو کو ٹھی کے نام سے مشہور کیا جاتا ہے۔اس میں حضرت کے غیر مسلم دوست اور رفقاء انقلاب ٹھہرا کرتے تھے۔ان کو نہایت راز داری کے ساتھ خدام خاص ٹھہرا دیتے تھے اور اُن کے کھانے پینے کے انتظامات کرتے رہتے تھے۔اکثر تنہائی کے اوقات میں یارات کو اُن سے حضرت شیخ الہند کی باتیں ہوتی تھیں۔یہ لوگ سکھ یا بنگالی ہندو انقلابی (بنگال) پارٹیشن والے ہوتے تھے۔چونکہ رازداری کا بہت زیادہ خیال رکھنا پڑتا تھا، اس لئے ان کے نام اور پتے معلوم نہیں ہو سکے۔۔۔۔علاوہ مذکورہ بالا حضرت کے، غیر مشہور حضرات اس تحریک کے ہم خیال اور مشن آزادی کے ممبر بے شمار تھے جن کی تفصیل تطویل چاہتی ہے۔یاغستان میں بغاوت اور اس کی ناکامی 1" او پر جناب طلیح آبادی کا حقیقت افروز بیان درج ہو چکا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ آزاد صاحب بنگال کے علاوہ سر حد یعنی یاغستان میں بھی شورش بپا کرنے کی کمان کر رہے تھے۔یاغستان میں اُن کے انقلابی دوست محمود الحسن اُن کے نائب تھے علاوہ ازیں انہوں نے کئی بار براہ راست مولوی عبید اللہ سندھی کو بھیجا تا انگریزی حکومت کے خلاف غدر پارٹی کی بغاوت کے شعلے تیز سے تیز کر دیں۔2 سندھی صاحب نے اپنی ذاتی ڈائری میں کھلا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے دوسال تک دہلی میں آزاد صاحب کی ہدایت پر انقلابیوں سے گہرے مراسم پیدا کرلئے اور ”اعلیٰ سیاسی طاقت“ (یعنی بین الا قوامی سوشلزم) سے متعارف ہوئے۔