مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 18 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 18

مسلم نوجوانوں کے نامے 35 بہانہ سے فتح کر دے۔چنانچہ اس نے حضور کو آواز دی کہ آپ گھوڑا لیتے ہیں تو لیں ورنہ میں اسے کسی اور کے پاس بیچ دوں گا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم تو میرے پاس گھوڑا فروخت کر چکے ہو اور سودا مکمل ہو چکا ہے۔مگر اس نے انکار کیا اور کہا کہ ہرگز نہیں میں نے کوئی سود انہیں کیا۔اگر جیسا کہ آپ کہتے ہیں۔سودا ہو چکا ہے تو کوئی گواہ پیش کریں۔عین اس وقت ایک صحابی حضرت خزیمہ بن ثابت وہاں آنکلے اور یہ گفتگو سنی۔جب آنحضرت ﷺ سے اس شخص نے گواہ طلب کیا تو حضرت خزیمہ نے آگے بڑھ کر کہا کہ میں گواہ ہوں کہ یہ سودا ہو چکا ہے۔آنحضرت ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم کس طرح شہادت دیتے ہو کیا تم سودا ہونے کے وقت موجود تھے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ جب ہم آپ پر ایمان لے آئے ہیں تو اس بات پر یقین کر کے ایمان لائے ہیں که حضور راستباز اور پاکباز ہیں۔اور جب ایسی اہم باتوں میں آپ کی صداقت کی تصدیق کر چکے ہیں تو پھر ایسی معمولی سی بات میں آپ کے راستی پر ہونے کی تصدیق میں کوئی تامل کیسے ہوسکتا ہے۔6 جنگ احد کے بعد بعض لوگوں کا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے قبائل میں تعلیم دین کے لیے قراء بھیجنے کی درخواست کرنے اور پھر ان کو ساتھ لے جا کر بئر معونہ کے مقام پر شہید کر دینے کے واقعہ کا ذکر اس کتاب میں کسی دوسری جگہ آچکا ہے۔ان ستر قراء میں سے صرف دو زندہ بچے تھے جنہیں کفار نے اسیر کر لیا تھا۔اور ان میں سے ایک حضرت زید تھے جنہیں صفوان بن امیہ کے پاس فروخت کر دیا گیا۔صفوان نے انہیں اپنے باپ کا قاتل سمجھ کر اس لیے خریدا تھا کہ شہید کر کے اپنے جذبہ انتقام کو فرو کرے۔چنانچہ اس نے ان کے شہید کرنے کا انتظام کیا۔انہیں مقتل میں لے جایا گیا۔اور عین اس وقت جبکہ وہ موت سے ہم آغوش ہونے کے لیے تیار کھڑے تھے ایک شخص نے کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اس وقت تمہاری جگہ محمد ﷺ ہمارے قبضہ میں ہوں اور تم اپنے گھر میں آرام سے مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 36 بیوی بچوں میں بیٹھے ہو تو تمہیں یہ بات پسند ہے یا نہیں۔حضرت زید نے نہایت لا پروائی کے ساتھ جواب دیا کہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو۔آنحضرت ﷺ کا نعوذ باللہ ظالموں کے پنجہ میں اسیر ہو کر مقتل میں کھڑا ہونا تو در کنار خدا کی قسم! میں تو یہ بھی گوارا نہیں کر سکتا کہ محمد اللہ کے پاؤں میں کانٹا بھی چھے۔اور میں گھر میں بیٹھا ہوں۔ابوسفیان یہ جواب سن کر عش عش کر اٹھا اور کہنے لگا کہ محمد (ﷺ) کے ساتھی آپ سے جتنی محبت کرتے ہیں دنیا میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔7 صحابہ کرام سفر و حضر میں آنحضرت ﷺ کی حفاظت کا خاص خیال رکھا کرتے تھے۔ایک سفر کے موقعہ پر ایک جگہ پڑاؤ ہوا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پانی کا انتظام کر لو ورنہ صبح الله تکلیف اٹھاؤ گے۔چنانچہ لوگ پانی کی تلاش میں ادھر ادھر نکل گئے۔آنحضرت ﷺ اپنے اونٹ پر تشریف فرما تھے کہ نیند کا غلبہ ہوا اور آپ سو گئے۔حضرت ابوقتادہ پاسبانی کے لیے پاس بیٹھے رہے اور حضور نیند میں جس طرف جھکتے ابو قتادہ اس طرف سہارا دے دیتے۔تا حضور کی استراحت میں فرق نہ آئے۔ایک دفعہ جو سہارا دیا تو حضور کی آنکھ کھل گئی۔اور آپ نے فرمایا۔ابو قتادہ تم کب سے میرے ساتھ ہو۔انہوں نے جواب دیا شام سے۔آپ نے فرمایا۔حفظك الله كما حفظت رسوله یعنی اللہ تعالی تمہاری حفاظت کرے جس طرح تم نے اس کے رسول کی حفاظت کی ہے۔۔حضرت انس کے متعلق پہلے یہ ذکر آپ کا ہے کہ آٹھ دس سال کی عمر میں آنحضرت ﷺ کی خدمت پر مامور ہوئے تھے لیکن اس کمسنی کے باوجود آپ پر پروانہ وار فدا تھے۔اور نہایت محبت و اخلاص کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرتے تھے حتی کہ نماز فجر سے قبل اٹھ کر مسجد نبوی میں پہنچتے۔اور حضور کے تشریف لانے سے قبل حضور علیہ السلام کے لیے پانی وغیرہ کا خاطر خواہ انتظام کر کے حاضر رہتے۔- حضرت ابوطلحہ نے بیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا۔جنگ احد میں جب بعض www۔alislam۔org