مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 16 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 16

32 مسلم نوجوانوں کے 31 مسلم نوجوانوں کے نامے الله آنحضرت ﷺ کے ساتھ اخلاص و فدائیت رسول کریم ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام کو جو عشق اور تعلق فدائیت تھا اس کی نظیر تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔صرف چند ایک واقعات درج کر کے بتایا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے الله صحابہ آپ پر فدا ہونے کے لیے ہر وقت اسی طرح تیار رہتے تھے جس طرح پروانہ شمع پر۔مردوں کی فدائیت تو کجا مسلم خواتین کو بھی آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایسا بے نظیر اخلاص تھا کہ وہ حضور کے وجود کو اپنے تمام اقرباء سے زیادہ قیمتی تصور کرتی تھیں۔جنگ احد سے فارغ ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ بمع صحابہ کرام کے شام کے قریب مدینہ کو واپس ہوئے۔چونکہ اس جنگ میں یہ افواہ پھیل چکی تھی کہ آنحضرت ﷺ نے شہادت پائی ہے اس لیے مدینہ کی عورتیں عالم گھبراہٹ میں گھروں سے نکل کر رستہ پر کھڑی تھیں۔اور عالم بے تابی میں منہ اٹھا اٹھا کر دیکھ رہی تھیں کہ اس طرف سے کوئی آتا ہوا دکھائی دے اور وہ آنحضرت ﷺ کے متعلق دریافت کریں۔ایک انصاری عورت نے ایک شخص سے جواسے احد سے واپس آتا ہوا دکھائی دیا آنحضرت ﷺ کے متعلق دریافت کیا۔اس کا دل چونکہ مطمئن تھا اور جانتا تھا کہ حضور صحیح و سالم ہیں۔اس نے اس عورت کے سوال کا تو کوئی جواب نہ دیا لیکن یہ کہا کہ تمہارا باپ شہید ہو گیا ہے۔لیکن جس طرح اس مرد نے آنحضرت ﷺ کے متعلق کوئی تشویش نہ ہونے کی وجہ سے اس عورت کے سوال کی طرف کوئی توجہ نہ دی اسی طرح اس عورت نے اپنی بے تابی کے باعث اس خبر کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے پھر حضور علیہ اسلام کے متعلق پوچھا۔اس نے پھر اپنے اطمینان قلب کے باعث اس کی تشویش کا اندازہ نہ کرتے ہوئے اسے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا بلکہ کہا کہ تمہارا بھائی بھی شہید ہو چکا ہے۔مگر اسکے نزدیک یہ خبر بھی چنداں اہمیت نہ رکھتی تھی۔اس کی نظر میں باپ اور بھائی بہن سب اس وقت پیچ نظر آرہے تھے اور ایک ہی خیال تھا کہ اس محبوب حقیقی کی حالت سے آگاہ ہو۔اس لیے اس نے اس خبر کو بھی نہایت بے التفاتی سے سنا اور نہایت بے تابی کے ساتھ پھر وہی سوال دھرایا۔یعنی آنحضرت ﷺ کے متعلق دریافت کیا کہ آپ کیسے ہیں لیکن اب بھی اس کو اس بے چاری کے جذبات کا احساس نہ ہو سکا۔اور بجائے اس کے کہ اسے آنحضرت ﷺ کی خیریت کی خبر سنا کر اس کے دل کو راحت پہنچاتا اسے اس کے خاوند کی شہادت کی اندوہناک خبر سنائی۔مگر اس خبر نے بھی جو اس کے خرمن امن کو جلا کر خاکستر کر دینے کے لیے کافی تھی اس شمع نبوت کے پروانہ پر کوئی اثر نہ کیا اور اس کی توجہ کو نہ ہٹایا۔اس نے پھر نہایت بے تابی کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خیریت دریافت کی۔اور بے چین ہو کر بولی کہ مجھے ان خبروں کی ضرورت نہیں۔مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کون مرا کون جیتا ہے مجھے تو صرف یہ بتاؤ کہ رسول خداہ کا کیا حال ہے۔آخر جب اس کے پاس اس کے متعلقین کے تعلق کوئی اور خبر نہ رہی تو اس نے اسے بتایا کہ آنحضرت مہ بفضلہ تعالی بخیریت ہیں اور صحیح و سالم تشریف لا رہے ہیں۔یہ جواب سن کر اس کی جان میں جان آئی او باوجود یکہ ایک لمحہ پہلے وہ اپنے تمام خاندان کی تباہی کی خبر سن چکی تھی لیکن آنحضرت ﷺ کی سلامتی کی خبر نے تمام صدمات کو اس کے دل سے محو کر دیا۔اور ایک ایسی راحت اور تسکین کی ہر اس کے رگ وریشہ میں سرایت کر گئی کہ بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔كل مصيبة جلل۔یعنی اگر آپ زندہ ہیں تو پھر سب مصائب بیچ ہیں۔2 صحابہ کرام کا آنحضرت ﷺ کے ساتھ عشق کا اندازہ ایک اور واقعہ سے کریں۔غزوہ احد میں آنحضرت ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا تو حضرت مالک بن سنان نے بڑھ کر خون کو چوسا اور ادب کے خیال سے چوسے ہوئے خون کو زمین پر پھینکنا گوارا نہ کیا بلکہ اسے پی گئے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھنا چاہے جس کا خون میرے خون سے آمیز ہوتو وہ مالک بن سنان کو دیکھے۔اس کے بعد حضرت مالک نے نہایت بہادری کے ساتھ لڑ کر شہادت حاصل کی۔۔جنگ بدر کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ ایک تیر کے ساتھ اسلامی لشکر کی صفیں درست کر رہے تھے۔ایک صحابی سواد نامی صف سے کچھ آگے بڑھے ہوئے تھے۔آپ نے تیر کے اشارہ www۔alislam۔org