مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 11 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 11

22 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 21 مسلم نوجوانوں کے نامے 23۔حضرت عثمان نے 34 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔آپ بہت بڑے دولت مند تھے۔مکہ سے ہجرت کر کے جب مسلمان مدینہ میں آئے تو پانی کی سخت تکلیف تھی۔صرف ایک کنواں (بیر رومہ ) ایسا تھا جس کا پانی عمدہ اور شیر میں تھا۔مگر وہ ایک یہودی کی ملکیت تھا جو پانی قیمت فروخت کرتا تھا۔ادھر صحابہ کی مالی حالت عام طور پر ایسی نہ تھی کہ مول لے کر پانی پی سکیں۔اس لیے حضرت عثمان نے وہ کنواں اس کے یہودی مالک سے نہیں ہزار درہم میں خرید کر وقف کر دیا۔24۔آنحضرت ﷺ نے جب غزوہ تبوک کی تیاری کا حکم دیا تو مالی تنگی حد سے زیادہ تھی۔اور سامان جنگ کا مہیا کر ناسخت مشکل ہور ہا تھا۔آپ نے صحابہ کرام کو مالی اعانت کی تحریک فرمائی۔تو حضرت عثمان نے دس ہزار مجاہدین کو اپنے خرچ سے آراستہ کیا۔اور ان کے لیے معمولی سے معمولی چیز بھی آپ کے روپیہ سے خریدی گئی۔اس کے علاوہ ایک ہزار اونٹ، ستر گھوڑے اور سامان رسد کے لیے ایک ہزار دینار نقد پیش کیے۔25۔حضرت امام حسنؓ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ نے تین مرتبہ اپنا آدھا آدھا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کیا۔اور تنصیف میں اس قدر شدت سے کام لیا کہ دو جوتوں میں سے ایک جوتا بھی دے دیا۔(اسد الغابہ جلد 2 ص 13) 26۔دین کی راہ میں صحابہ کرام کیا مرد اور کیا عورتیں ہر رنگ میں قربانی کے لیے کمر بستہ نظر آتے ہیں۔مال و دولت اور جان عزیز کے علاوہ جب موقعہ ہوتا تو اپنی اولادوں کو بھی نہایت اخلاص کے ساتھ قربان کر دیتے تھے۔ایک عورت کی مثال پڑھیے اور غور کیجئے کہ ہمارے بزرگ کیسے کامل الایمان تھے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب عراق میں قادسیہ کے مقام پر جنگ جاری تھی تو حضرت خنساء اپنے چار بیٹوں کو لے کر میدان جنگ میں آئیں اور ان کو مخاطب کر کے کہا کہ پیارے بیٹو! تم نے اسلام کسی جبر کے ماتحت اختیار نہیں کیا اس لیے اسکی خاطر قربانی کرنا تمہارا فرض ہے۔خدا کی قسم میں نے نہ تمہارے باپ سے کبھی خیانت کی اور نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا۔یہ دنیا چند روزہ ہے اور اس میں جو آیا وہ ایک نہ ایک دن مرے گا۔لیکن خوش بخت ہے وہ انسان جسے خدا تعالی کی راہ میں جان دینے کا موقعہ ملے۔اس لیے صبح اٹھ کر لڑنے کے لیے میدان میں نکلو اور آخر وقت تک لڑو۔کامیاب ہو کر واپس آؤ۔نہیں تو شہادت کا مرتبہ حاصل کرو۔سعادت مند بیٹوں نے بوڑھی ماں کی اس نصیحت کو گوش ہوش سے سنا اور لڑائی شروع ہوئی تو ایک ساتھ گھوڑوں کی باگیں اٹھائیں۔اور نہایت جوش کے ساتھ رجز پڑھتے ہوئے کفار پر ٹوٹ پڑے۔اور چاروں نے شہادت کا درجہ پایا۔دلاور ماں نے جب بیٹوں کی شہادت کی خبر سنی تو ان کو قربانی کا یہ موقعہ ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔(اسد الغابہ جلد 1 ص 560) صحابہ کرام کے مردوزن کی قربانیوں کی یہ چند ایک مثالیں دینی ترقی کا راز اپنے اندر مضمر رکھتی ہیں۔انہیں ہر قسم کی قربانیوں کے مواقع پیش آئے۔مالی بھی اور جانی بھی۔عزت کی بھی اور رشتہ داروں کی اور اولاد کی بھی۔اور انہوں نے ہر موقعہ پر نہایت شرح صدر اور بشاشت قلب کے ساتھ یہ قربانیاں پیش کیں۔پھر یہ سعادت کسی خاص طبقہ کے لیے مخصوص نہ تھی۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ مالدار لوگوں کے لیے قربانیاں کرنا کیا مشکل امر ہے؟ مشکل تو غریبوں کے لیے ہے جن کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہ ہو لیکن ان واقعات میں جہاں آپ کو نادار لوگوں کی انتہائی قربانیوں کی مثالیں نظر آئیں گی وہاں امراء کی بے مثال قربانیاں بھی ملیں گی۔جو یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ جو پہلے ہی تنگ دست ہو اس کے لیے کچھ دے دینا کیا مشکل ہے۔مشکل تو ان لوگوں کے لیے ہے جن کی ضروریات وسیع ہوتی ہیں۔جن کی تمدنی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ بوجہ عادی ہونے کے آرام و آسائش کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔اور تکلیف سے گزارہ نہیں کر سکتے۔اور حقیقت یہ ہے کہ قربانی نہ دولت و مال پر منحصر ہے اور نہ تنگدست اور مفلسی کا نتیجہ۔بلکہ اس کا تعلق انسان کے قلبی ایمان کے ساتھ ہوتا ہے جس کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہو اس کے لیے قربانی کی راہ میں نہ اس کی غربت حائل ہو سکتی ہے نہ کثرت اموال۔www۔alislam۔org