مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 68 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 68

136 مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے 135 مسلم نوجوانوں کے نامے -7 بے نفسی اور کسی طمع ولالچ سے بے نیاز ہو کر قومی خدمت سرانجام دینے کی تاریخ میں حضرت خالد بن ولید کا واقعہ سب سے زیادہ ممتاز ہے۔بعض وجوہ کی بناء پر حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت کی ابتدء میں ہی ان کو لشکر اسلامی کی سپہ سالاری کے عہدہ جلیلہ سے معزول کر دیا اور حضرت ابوعبیدہ کے ماتحت کر دیا۔حضرت خالد بن ولید کی جنگی خدمات، بہادری، جرات ، تدبر اور معاملہ نہی کے واقعات سے تاریخ اسلام کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔یہ انہی کی جانبازانہ مساعی کا نتیجہ تھا کہ جنگ یرموک میں رومی امپریلزم کی کمر ہمت ٹوٹ گئی۔اور قیصر کا ایوان مسلمانوں کے رعب سے کانپنے لگا۔لیکن اس کے باوجود حضرت عمرؓ نے ان کا عزل ضروری سمجھا اور اس کے احکام صادر کر دیئے۔حضرت خالد نے نہایت کشادہ پیشانی کے ساتھ خلیفہ وقت کے احکام کی تعمیل کی۔اور دل میں کوئی انقباض بھی پیدا نہیں ہونے دیا۔حضرت ابو عبیدہ کے ماتحت ہو کر بھی وہ اسی جانبازی اور سرفروشی کے ساتھ میدان جہاد میں داد شجاعت دیتے نظر آتے ہیں۔جس طرح اپنے سپہ سالار ہونے کے وقت میں تھے۔دراصل یہی جذبہ ہے جسکے ماتحت قومی خدمات کوئی نتیجہ پیدا کر سکتی ہیں۔جولوگ معمولی اور برائے نام عہدوں کی وجہ سے قومی وملی کاموں میں رکاوٹیں ڈالتے اور ایسے بگڑ جاتے ہیں کہ بجائے کسی امداد کے تخریبی مساعی میں حصہ لینے لگتے ہیں۔وہ قوم کے لیے ایک لعنت ہیں۔قومی خدمت میں خلوص، بے نفسی اور شہرت سے بعد ہونا چاہیے۔اور جو قومی کام کسی کے سپرد ہوا سے نفسانی جذبات سے بلند و بالا رہ کر ادا کرنا چاہیے۔اور یہی وہ سپرٹ ہے جو کسی قوم کی کامیابی کی ضامن ہوسکتی ہے۔ا۔(مسند احمد ج 1 ص 17) ۳۔(مسند احمد ج 4 ص 58) حوالہ جات ۲۔(اسد الغابہ ج 3 ص 68) ۴۔(مسلم کتاب الزہد ) ؟ ۵- (ادب المفرد باب اعمال الصالح) ۶۔(ابوداؤد کتاب الصلوة ) سادہ معاشرت 1 صحابہ کرام میں سے وہ لوگ بھی جن کو اللہ تعالیٰ نے مال کثرت سے دے رکھا تھا، ہمیشہ کھانے اور پہننے میں سادگی اختیار کرتے تھے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف بہت مالدار شخص تھے۔یہاں تک کہ ان کے ورثاء نے سونے کی اینٹوں کو تقسیم کرنے کے لیے کلہاڑیوں سے کٹوایا تھا اور کاٹنے والوں کے ہاتھوں میں آبلے پڑ گئے تھے۔نقد دولت میں سے بیویوں کو آٹھویں حصہ میں سے اسی اسی ہزار دینار آئے تھے۔ہزاروں اونٹ اور بکریاں ان کے علاوہ تھیں۔(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 317)۔مگر با ایں ہمہ کھانے پینے میں تکلفات سے بالکل بالا تھے۔اور آپ کا دستر خوان گو بہت وسیع ہوتا لیکن تکلف نام کو نہ ہوتا تھا۔اور ابتدائی ایام میں مسلمانوں کے فقر وفاقہ کو یاد کر کے آنکھیں پرنم ہو جاتی تھیں۔2۔حضرت جابر بن عبداللہ گو نہایت ہی بلند مرتبت صحابی تھے مگر ساتھ ہی بہت سادگی پسند اور بے تکلف تھے۔ایک دفعہ بعض صحابہ ان سے ملنے آئے آپ اندر بیٹھے سرکہ کے ساتھ روٹی کھا رہے تھے۔وہی اٹھا کر ان دوستوں کے پاس لے آئے۔اور ان کو شریک طعام ہونے کی دعوت دی۔اور ساتھ فرمایا کہ اگر کسی کے پاس اس کے دوست احباب آئیں تو اسے چاہیے کہ جو کچھ حاضر ہو پیش کر دے۔اور مہمانوں کو بھی چاہیے کہ کسی چیز کو حقارت سے نہ دیکھیں اور بے تکلفی کے ساتھ ماحضر تناول کر لیں۔کیونکہ تکلف فریقین کی ہلاکت کا موجب ہے۔- اس ضمن میں حضرت عمر کا ایک واقعہ بھی بہت سبق آموز ہے۔آپ ایک دفعہ اپنی بیٹی حضرت حفصہ کے ہاں تشریف لائے۔تو انہوں نے سالن میں زیتون کا تیل ڈال کر پیش کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک وقت میں دو دو سالن۔خدا کی قسم کبھی نہ کھاؤں گا۔یاد رکھنا چاہیے کہ عرب میں زیتون کا تیل بھی سالن کی بجائے روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔www۔alislam۔org