مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 67 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 67

(134) مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 133 مسلم نوجوانوں کے رنامے آنریری قومی خدمت و بے نفسی حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب امور سلطنت کی سرانجام دہی کے لیے عمال کی ضرورت بکثرت پیش آنے لگی تو انہیں عمال کے انتخاب میں ایک بہت بڑی دشواری یہ پیش آئی کہ یہ لوگ حق الخزمت لینازہد و تقاء کے منافی سمجھتے تھے اور قومی خدمت بغیر معاوضہ ادا کرنا پسند کرتے تھے۔1- ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن سعدی حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ کیا مجھے خبر نہیں کہ آپ بعض ملکی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔لیکن جب کوئی معاوضہ پیش کیا جاتا ہے تو اسے لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔حضرت عبداللہ نے جواب دیا کہ میرے پاس گھوڑے ہیں اور میری مالی حالت اچھی ہے اس لیے چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی خدمت کروں۔2 حضرت عبد اللہ بن ارقم آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مراسلات کی کتابت پر مامور تھے۔حضرت ابوبکر کے زمانہ اور پھر حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی اس خدمت کو سرانجام دیتے رہے۔بلکہ حضرت عمر نے انہیں خزانچی بھی مقرر کر دیا تھا۔حضرت عثمان کے زمانہ میں جب سبکدوش ہوئے تو انہوں نے تمیں ہزار یا بعض روایات کے مطابق دو لاکھ درہم بطور معاوضہ پیش کیے۔مگر آپ نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں نے یہ کام خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا ہے۔اور وہی مجھے اسکا اجر دے گا۔3۔اس سے کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت اسلام کی سب سے بڑی خدمت تھی۔کیونکہ حضور کی ذات سے ہی اسلام کا قیام وابستہ تھا۔اس لیے صحابہ گرام آنحضرت ﷺ کی خدمت بھی بڑے شوق سے کرتے تھے۔اور اس کے لیے کوئی معاوضہ پسند نہ کرتے تھے۔حضرت ربیعہ بن سلمی کے متعلق آتا ہے کہ آپ دن رات خدمت کے لیے آپ کے حضور کمر بستہ رہتے تھے۔عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر جب آنحضرت مہ اپنے گھر تشریف لے جاتے تو حضرت ربیعہ دروازہ پر بیٹھ جاتے۔تا اگر حضور علیہ السلام کو کوئی ضرورت پیش آئے تو اسے پورا کر سکیں۔ایک بار آنحضرت ﷺ نے ان کو خدمت کا کچھ معاوضہ دینا چاہا۔لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا۔یا رسول اللہ مجھے صرف اس چیز کی ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور میری شفاعت کر دیں کہ آگ سے نجات ہو جائے۔ایک بار آنحضرت ﷺ نے ان کو شادی کرنے کا مشورہ دیا مگر انہوں نے کہا کہ چھنجٹ حضور کی خدمت گزاری میں مخل ہوگا۔اس لیے مجھے پسند نہیں۔4۔ان کے علاوہ اور بھی کئی صحابہ تھے۔جنہوں نے اپنی زندگیاں خدمت نبوی کے لیے وقف کر رکھی تھیں۔حتی کہ معمولی خدمات بھی نہایت اہتمام سے ادا کرتے تھے۔آنحضرت ﷺ کو صلى الله ٹھنڈا پانی بہت مرغوب تھا۔چنانچہ ایک صحابی نے یہ خدمت اپنے ذمہ لے رکھی تھی اور آپ کے لیے پانی ٹھنڈا کر کے لایا کرتے تھے۔۔آج کل یہ مرض عام ہے کہ جو کام کسی کے سپرد کیا جائے وہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اسے مالی لحاظ سے کیا فائدہ ہوگا۔لیکن صحابہ کرام اس قسم کے خیالات سے بالا تر تھے۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمرو بن العاص سے فرمایا۔کہ میں تم کو ایک مہم پر بھیجنا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ مال غنیمت دے گا تو اس میں سے کثیر حصہ تمہیں ملے گا۔آپنے جواب دیا کہ میں مال کے لیے مسلمان نہیں ہوا۔صرف اس لیے اسلام لایا ہوں کہ آپ کا فیض صحبت حاصل ہو۔حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی آنحضرت ﷺ کے ایک خادم تھے۔ایک مرتبہ آپ نے چاہا کہ ان کو کچھ معاوضہ دیں۔چنانچہ فرمایا کہ کچھ مانگو۔انہوں نے جواب میں کہا کہ یارسول اللہ میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں اور کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا کچھ اور۔تو انہوں نے کہا کہ بس یہی ایک چیز چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ کثرت سے نماز پڑھو۔تو تمہیں دولت نصیب ہوگی۔www۔alislam۔org