مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 59 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 59

118 مسلم نوجوانوں کے کارنامه (117) مسلم نوجوانوں کے نامے نہیں ڈالا پھر اس کے ساتھ اپنی پوزیشن کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نادان کی نادانی اور کم نہمی ہے ورنہ ہمارے دلوں میں ایسا کوئی خیال قطعاً نہیں۔2 غزوہ تبوک میں حضرت کعب بن مالک شریک نہ ہوئے تھے۔اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی اس غفلت کے لیے کوئی صحیح عذر بھی نہ تھا۔وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ان سے سراسر کوتاہی ہوئی۔واپسی پر آنحضرت ﷺ نے اس کا سبب دریافت فرمایا۔انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ اس غفلت کی سزا انہیں ضرور مل کر رہے گی۔لیکن سزا کے خوف سے انہوں نے ادھر ادھر کی باتوں سے اپنی غفلت پر پردہ ڈالنے کی قطعا کوشش نہیں کی اور کسی بہانہ سازی سے کام لینے کا خیال تک نہ کیا بلکہ صاف الفاظ میں اپنی غلطی کا اقرار کر لیا۔حضرت ماعز بن مالک ایک نوجوان صحابی تھے۔انسان خطا ونسیان کا پتلا ہے۔اور شیطان اسے جادہ صراط سے منحرف کرنے کے لیے اس طرح اس کی تاک میں لگا رہتا ہے کہ ہر وقت اس سے خطا کے صدور کا امکان ہے۔چنانچہ وہ بھی اس بہکانے میں آگئے۔ایک دفعہ ان سے زناء کی لغزش سرزد ہوئی۔یہ کوئی معمولی لغزش نہ تھی اور شریعت اسلامی میں اس کی سزا سے وہ نا واقف بھی نہ تھے۔لیکن صحابہ کرام اپنی خطا کی سزا اس دنیا میں برداشت کر لینا خدا تعالیٰ کے حضور گنہگار ہونے کی حیثیت میں جانا بہت زیادہ آسان سمجھتے تھے۔چنانچہ بعد میں انہیں جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو دامن صبر قرار ہاتھ سے چھوٹ گیا۔غفلت کا پردہ اٹھتے ہی اللہ تعالیٰ کا رعب ایسا طاری ہوا کہ بے چین ہو گئے اور بے تاب ہو کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔اور عرض کیا یا رسول اللہ مجھے پاک کیجئے۔لیکن آنحضرت ﷺ نے چشم پوشی سے کام لیا اور فرمایا جاؤ خدا تعالیٰ سے مغفرت چاہو اور اس کے حضور تو بہ کرو۔ماعز یہ جواب سن کر لوٹے مگر جو لغزش ہو چکی تھی اس نے اطمینان قلب ختم کر دیا تھا۔طبیعت پر اس کا اس قدر بوجھ تھا کہ جلد از جلد اس کو دور کرنا چاہتے تھے۔دل کو سکون نہ تھا۔ارشاد کی تعمیل میں واپس تو ہو گئے لیکن تھوڑی دور جا کر پھر واپس آئے۔اور پھر دل کی بیتابی سے مجبور ہو کر عرض کیا یارسول اللہ مجھے پاک کیجئے۔آپ نے پھر چشم پوشی فرمائی اور پھر یہی جواب دیا کہ جاؤ خدا تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔اور اسی کے حضور تو بہ کرو۔یہ ارشاد سن کر آپ لوٹنے کو تو پھر لوٹ گئے مگر قلبی کیفیت نے بالکل بے بس کر رکھا تھا۔قدم اٹھائے آگے کو اور پڑتا پیچھے کی طرف تھا۔بس ایک ہی خیال دل میں جاگزیں تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو اس گندا اور فسق و فجور کی آلائش سے اپنا دامن پاک کریں۔اس لیے چند قدم جانے کے بعد پھر ایک وارفتگی کے عالم میں واپس ہوئے اور پھر یہی درخواست کی یارسول اللہ مجھے پاک کیجئے۔اس پر آپ نے فرمایا تم کس چیز سے پاک ہونا چاہتے ہو۔ماعز نے نہایت ندامت اور شرمساری کے لہجہ میں عرض کیا زنا کی گندگی سے۔ان کی یہ صاف بیانی اور رضا کارانہ اقبال جرم کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ کو بھی حیرت ہوئی۔اور آپ نے لوگوں سے پوچھا یہ شخص مجنون تو نہیں۔اور اس کی یہ باتیں کسی دماغی عارضہ کا نتیجہ تو نہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ نہیں۔اس کی دماغی حالت بالکل درست لیکن آپ شرعی حدود قائم کرنے سے قبل چونکہ تمام پہلوؤں کو اچھی طرح معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے اس لیے پھر فرمایا کہ اس نے شراب تو نہیں پی ہوئی۔ایک شخص نے قریب جا کر منہ سونگھا۔تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں اور منہ سے شراب کی بو نہیں آتی تھی۔اس پر آنحضرت ﷺ نے پھر فرمایا۔ماعز کیا تم نے واقعی زنا کیا۔انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یا رسول اللہ واقعی مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی۔اس پر آپ نے سنگساری کا حکم دیا۔حضرت عمر نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ انہوں نے خدا کی ستاری کی پرواہ نہیں کی۔اس لیے انہیں شریعت کی ظاہری سزا بھگتنی پڑی۔اگر وہ تو بہ اور استغفار کرتے تو اللہ تعالی ستار ہے۔ان کی کچی تو بہ پر ویسے بھی بخش دیتا اور انہیں اس سزا سے بھی بچالیتا۔-4 مریسیع کے مقام پر عبداللہ بن ابی نے آنحضرت ﷺ کی شان میں جو نا پاک الفاظ استعمال www۔alislam۔org