مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 58
116 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 115 مسلم نوجوانوں کے نامے بھی آج مسلمانوں میں یہ وصف نمایاں نظر نہیں آتا۔بے شک ان میں آج بھی مہمان نواز ہیں لیکن ایسے لوگ شاذ ہونے کی وجہ سے معدوم ہونے کے حکم میں ہیں۔اور اس کمی کی وجہ جہاں تک سمجھ میں آتی ہے یہ ہے کہ ہمارا تمدن اسلامی سادگی کو کھو چکا ہے اور جو بے تکلفی اور سادگی اسلام کے ان شیدائیوں کی زندگیوں میں نظر آتی ہے وہ ہمارے اندر دکھائی نہیں دیتی۔ہمیں وضعدار یوں اور تکلفات نے ایسی بری طرح آگھیرا ہے کہ مہمان نوازی کے لیے اعلی سے اعلی سامان اور عمدہ سے عمدہ کھانوں کو ہم ضروری سمجھنے لگ گئے ہیں۔اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر مہمان کو اس سے بہت بڑھ کر کھانا پیش نہ کر سکے جو خود عام طور پر گھروں میں کھاتے ہیں تو اس سے سبکی ہوگی۔اور وقار میں فرق آئے گا۔اور اس قسم کے خیالات ایسی بری طرح ہمارے قلوب میں جاگزیں ہو چکے ہیں کہ مہمان نوازی کی سعادت سے محرومی کو گوارا کرلیں گے۔اس کا کوئی قلق محسوس نہیں کریں گے لیکن یہ کبھی نہیں کریں گے کہ مہمان کے سامنے ماحضر لا کر رکھ دیں۔اور اس طرح بغیر کوئی بوجھ برداشت کرنے کے ثواب بھی حاصل کر لیں۔بے شک جو استطاعت رکھتا ہو اس کے لیے مہمان نوازی میں اہتمام بھی ثواب کا موجب ہے اور اسے چاہیے کہ مہمان کا اس رنگ میں بھی احترام کرے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہونے چاہئیں کہ اس کے بغیر مہمان نوازی ہی کرنی چھوڑ دی جائے۔اگر ہمارے دوست اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اور وضعداریوں اور تکلفات کی خود پیدا کردہ پابندیوں سے آزادی حاصل کر کے سادگی اور بے تکلفی کوراہ عمل بنالیں تو یقینا اگر ایک طرف وہ مہان نوازی کی توفیق پا کر ثواب حاصل کر سکیں گے تو دوسری طرف اس ثواب کے حصول کے لیے انہیں کوئی غیر معمولی اور زائد بوجھ بھی برداشت نہ کرنا پڑے گا۔ا۔(مسلم ج ۲ ص 198) ؟ ۳۔( بخاری کتاب الجہاد) ۵- ( تاریخ طبری ص 2842) حوالہ جات ۲ - ( ابن هشام زکر غزوة بدر ) ۴۔(مسند احمد ج اص 163) (مسند احمد ج 3 ص 432) راست گفتاری اور صاف گوئی صحابه کرام راستی اور صدق بیانی کے پیکر اور سچائی و راستبازی کی جیتی جاگتی تصویر میں تھے۔عام حالات واقعات میں ان کی راست بیانی کا تذکرہ گویا ان کے مقام صدق کی تو ہین ہے۔دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا نقصان اور خوفناک سے خوفناک سزا کا خوف بھی ان کو جادہ صداقت سے منحرف نہیں کر سکتا تھا۔وہ اپنی جان پر کھیل جاتے لیکن کیا مجال کہ کوئی خلاف واقعہ حرف زبان پر لائیں۔اور روحانی لحاظ سے کوئی نمایاں مقام رکھنے والے تو در کنار ان کے کمزور بھی غلط بیانی کی جرات نہ کر سکتے تھے۔حتی کہ اگر کسی سے بتقاضائے بشریت کوئی غلطی بھی سرزد ہو جاتی تو وہ سزا کے خوف یا عقوبت کے خیال سے اسے چھپانے کا وہم بھی دل میں نہ لا سکتے تھے۔بلکہ عواقب سے بالکل بے نیاز ہو کر صاف صاف اقرار کر لیتے تھے۔چند ایمان پرور اور روح افزا واقعات ملاحظہ ہوں۔-1- فتح مکہ کے بعد جب آنحضرت ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کیا تو مصلحت و منشائے الہی کے ماتحت اس میں قریش کے ساتھ ترجیحی سلوک روا رکھا۔ہر شخص کی نظر معاملات کی تمام باریکیوں تک نہیں پہنچ سکتی۔اور ہر شخص معرفت کے اس مقام پر پہنچا ہوا نہیں ہوتا کہ اس کی آنکھ مخفی در مخفی اور باریک در بار یک حکمتوں کو دیکھنے کی اہلیت رکھتی ہو۔رسول کریم ﷺ کے حقیقی مقام کی معرفت رکھنے والے اس ترجیح پر معترض ہونا تو در کنار اگر حضور سب کچھ بھی کسی خاص گروہ کے سپرد کر دیتے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوتا۔لیکن ایک حقیقت ناشناس اور کم فہم انصاری نے اس پر معترضانہ رنگ میں نکتہ چینی کی۔آنحضرت ﷺ کو اسکا علم ہوا تو آپ کو تکلیف ہوئی۔آپ نے انصار کو طلب فرمایا اور اس کے متعلق دریافت فرمایا۔انصار نے اپنے آدمی کی اس نادانی پر کوئی پردہ ڈالنے اور تاویلات سے کام لے کر اس کے جرم کو چھپانے کی قطعا کوئی کوشش نہیں کی بلکہ من و عن صحیح صحیح بات بیان کر دی۔اور اس پر کوئی پردہ www۔alislam۔org