مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 57
(114) مسلم نوجوانوں کے کارنامے 113 مسلم نوجوانوں کے نامے رہیں۔کہ گویا کھانا کھا رہے ہیں۔لیکن دراصل کچھ نہ کھائیں اور اس طرح مہمان سیر ہو کر کھانا کھا لے۔چنانچہ اس ایثار پیشہ خاندان نے ایسا ہی کیا۔بچوں کو فاقہ سے بہلا کر سلا دیا گیا۔بیوی نے روشنی بجھادی اور میاں بیوی ساتھ بیٹھ کر یونہی مچاکے مارتے رہے کہ گویا بڑے مزے سے کھانا کھا رہے ہیں۔اس طرح گھر کے سب لوگ تو فاقہ سے رہے اور مہمان نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا۔اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ رسول کریم نے کو وحی کے ذریعہ اس کی خبر دی۔چنانچہ صبح ہوئی تو آپ نے حضرت ابو طلحہ کو بلایا اور ہنستے ہوئے فرمایا کہ رات تم نے مہمان کے ساتھ کیا کیا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا کیا۔آپ نے فرمایا جو کچھ تم نے کیا اسے دیکھ کر اللہ تعالی عرش پر ہنسا اور اس لیے میں بھی ہنسا ہوں۔احباب اس واقعہ پر غور کریں اور دیکھیں کہ یہ مہمان نوازی کتنی مشکل اور قربانی چاہتی ہے۔اگر چہ خود بھوکا رہنا بھی آسان نہیں لیکن اگر خیال کر لیا جائے کہ روزہ رکھنے کے عادی لوگوں کے لیے ایک وقت کا فاقہ کاٹ لینا کوئی بڑی بات نہیں تو کم سے کم یقینا یہ ماننا پڑے گا کہ اپنے چھوٹے چھوٹے جگر گوشوں کو رضا کارانہ طور پر بھوکا رکھنا یقیناً ایک ایسی بات ہے جو ثابت کرتی ہے کہ ہمارے یہ بزرگ مہمان نوازی کو کس قدر اہمیت دیتے تھے۔2 صحابہ کی مہمان نوازی صرف مہمانوں تک ہی محدود نہ تھی بلکہ دشمن بھی اس سے محروم نہ تھے۔یہاں تک کہ جنگ کے قیدیوں سے بھی یہی سلوک تھا۔چنانچہ ایک شخص ابوعزیز بن عمیر جو جنگ بدر میں قید ہوئے تھے بیان کرتے ہیں کہ انصار مجھے تو پکی ہوئی روٹی دیتے تھے اور خود کھجور میں وغیرہ کھا کر گزارہ کر لیتے تھے۔اور کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ اگر ان کے پاس روٹی کا کوئی چھوٹا سا ٹکڑا بھی ہوتا تو وہ مجھے دے دیتے اور خود نہ کھاتے تھے اور اگر میں تامل کرتا تو اصرار کے ساتھ کھلاتے تھے۔-3- جن اسیران جنگ کے پاس کپڑا نہ ہوتا ان کو مسلمان کپڑے بھی مہیا کرتے تھے۔محمد ﷺ کی ہدایات کے ماتحت انصار و مہاجرین قیدیوں کے ساتھ بڑی محبت اور مہربانی کا سلوک کیا کرتے تھے۔چنانچہ بعض قیدیوں کی اپنی شہادت ہے کہ خدا بھلا کرے مدینہ والوں کا وہ ہم کو سوار کرتے اور خود پیدل چلتے تھے۔ہم کو گندم کی پکی ہوئی روٹی کھلاتے۔اور خود کھجوریں وغیرہ کھا کر گزارہ کر لیتے تھے۔“ ( بحوالہ سیرت خاتم النبین صفحہ 155) جن لوگوں کا جنگی قیدیوں کا ساتھ یہ سلوک تھا مہمانوں اور اپنے بھائی مہمانوں کے ساتھ ان کا برتاؤ اظہر من الشمس ہے۔-4- ایک دفعہ بنی عذرہ کے تین مہمان مدینہ میں آئے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کون ان کی کفالت کا ذمہ لیتا ہے۔حضرت طلحہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں۔چنانچہ ان تینوں کو اپنے گھر لے گئے۔اور پھر وہ جب تک زندہ رہے انہی کے ہاں رہے لیکن انہوں نے کبھی ان کو اپنے لیے بار تصور کر کے ان سے گلو خلاصی کی کوشش نہیں کی اور ایسے اخلاق سے ان کے ساتھ پیش آتے رہے کہ ان کو یہ احساس تک نہیں ہونے دیا کہ وہ کسی اجنبی جگہ میں ہیں۔5- حضرت عبد اللہ بن مسعود مہمانوں کی خدمت سے حظ محسوس کرتے تھے اور آپ نے کوفہ میں ایک عالی شان مکان مہمانوں کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔آنحضرت ﷺ کی خدمت میں جو و فود آتے آپ ان کی مہمان نوازی کا فرض صحابہ کے سپرد کر دیتے تھے۔ایک مرتبہ قبیلہ عبدالقیس کے مسلمانوں کا وفد حاضر ہوا۔تو آپ نے انصار کو ان کی مہمان نوازی کا ارشاد فرمایا چنانچہ انصار ان لوگوں کو لے گئے۔صبح کے وقت وہ لوگ حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے میزبانوں نے تمہاری مدارت کیسی کی۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ بڑے اچھے لوگ ہیں۔ہمارے لیے نرم بستر بچھائے ، عمدہ کھانے کھلائے اور پھر رات بھر کتاب وسنت کی تعلیم دیتے رہے۔یہ بات سخت افسوس کے قابل ہے کہ اپنے بزرگوں کے ایسے شاندار اسوہ کے ہوتے ہوئے www۔alislam۔org