مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 53 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 53

106 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 105 مسلم نوجوانوں کے رنامے ہوئی۔حضرت سعد نے ان کو نصف مال دینا چاہا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔مجھے بازار کا راستہ بتا دو۔چنانچہ بازار میں گئے اور گھی و پنیر کی تجارت شروع کر دی۔15- حضرت علی حضرت سعد بن مالک حضرت عبد اللہ بن مسعود وغیرہ جلیل القدر صحابہ جب مدینہ میں آئے تو انصار کی زمینوں پر کھیتی باڑی کرنے لگے۔اور اس طرح فصل سے حصہ لے لیتے تھے۔16- مختصر یہ کہ صحابہ کسی کام کور ذیل نہ سمجھتے تھے۔حضرت خباب لوہار تھے۔۱۹ 17۔بعض صحابیات کپڑے بنا کرتی تھیں۔خوادم المؤمنین حضرت سودہ طائف کا ردیم بناتی تھیں۔18- ایک صحابی کے ہاتھ سیاہ پڑ گئے۔آنحضرت ﷺ نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ دن بھر پتھر پر پھاوڑا چلاتا ہوں۔اس سے اہل وعیال کی روزی کماتا ہوں۔آپ نے اس کے ہاتھ چوم لیے۔19 - باوجود یہ کہ حضرت ابوبکر بہت بڑے امیر اور صاحب حیثیت آدمی تھے مگر ہاتھ سے کام کرنے میں کوئی عار نہ تھی۔آپ خود بھیڑ بکریاں چرا لیتے تھے۔محلہ والوں کی بکریوں کا دودھ دوہ دیتے تھے۔حتی کہ جب آپ خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ کے محلہ کی ایک لڑکی نے نہایت حسرت کے ساتھ کہا کہ اب ہماری بکریوں کا دودھ کون دو ہے گا۔20۔حضرب ابوبکر کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے۔حتی کہ دین و دنیا کے بلند ترین منصب پر فائز ہونے یعنی خلیفہ ہونے کے بعد بھی آپ کے دل میں یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ اب ہاتھ سے محنت کرنا میری شان کے منافی ہے۔اور کہ اب مجھے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔چنانچہ اگلے ہی روز حسب معمول آپ نے کپڑے کے تھانوں کا گٹھا اٹھایا اور خرید وفروخت کے لیے بازار کی طرف چل دیئے۔رستہ میں حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ ملے تو انہوں نے کہا کہ اب تو آپ ہمارے امام ہیں یہ کام چھوڑ دیں اور بیت المال سے وظیفہ لے لیا کریں۔یہ واقعہ ہمارے نوجوانوں کے لیے خاص طور پر عبرت انگیز ہے۔21- اسلام کی تعلیم کے نتیجہ میں صحابہ کرام کو ہاتھ سے کام کرنے کی ایسی عادت ہوگئی تھی کہ اپنا کام کرنا معمولی بات ہے وہ دوسروں کی خدمت سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔باوجود یہ کہ د نیوی لحاظ سے حضرت عمر کو اتنی بڑی پوزیشن حاصل تھی۔کہ جو ایک بڑے سے بڑے بادشاہ کو ہو سکتی ہے۔مگر آپ کندھے پر مشق ڈال کر بیوہ عورتوں کے لیے پانی بھر دیتے تھے۔اور مجاہدین کے بیوی بچوں کو بازار سے سودا سلف خرید کر لا دیتے تھے۔اس میں شک نہیں کہ اس وقت کا تمدن ہمارے موجودہ تمدن سے بہت مختلف تھا اور اس زمانہ میں امراء کو بہت سے ایسے دفتری کام نہیں پڑتے تھے جو اس زمانہ میں ضروری ہو گئے ہیں۔اور دفتری طرز حکومت نے ذمہ دار لوگوں کے لیے کام کو اس قدر وسیع کر دیا ہے کہ انہیں بہت سا وقت اس پر صرف کرنا پڑتا ہے۔تاہم ہمارے نوجوانوں کے لیے جو محض کسر شان کے خیال سے بعض کا موں کو اپنے لیے ہتک آمیز خیال کرتے ہیں ان واقعات میں بہت سے سبق مل سکتے ہیں۔22۔حضرت عثمان کی امارت میں کسی کو کلام نہیں۔گھر میں خدمت گار موجود ہوتے تھے لیکن آپ کی عادت تھی کہ اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کرتے اور کسی کو تکلیف نہ دیتے تھے۔رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو وضو وغیرہ کی تیاری کے لیے کسی کو نہ جگاتے تھے۔بلکہ تمام سامان خود ہی کر لیتے تھے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے براہ راست تربیت حاصل کرنے والوں کے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہو چکی تھی کہ آدمی کو اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنا چاہیے۔23۔حضرت علی با وجود یہ کہ آنحضرت ﷺ کے فرزند نسبتی اور خود بھی ایک ممتاز حیثیت کے مالک تھے۔مگر ہاتھ سے کام کرنے میں کبھی عار محسوس نہ کرتے تھے۔محنت مزدوری کو کبھی اپنی www۔alislam۔org