مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 50 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 50

100 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 99 مسلم نوجوانوں کے نامے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور قبل اس کے کہ وحی الہی آپ کو رسوا کر دے اپنی نجات کی فکر کیجئے۔لڑکی کی اس ایمان افروز تقریر کا اس کے باپ پر بھی خاطر خواہ اثر ہوا۔ان کو اپنی غلطی کا پوری طرح احساس ہو گیا۔فوراً بھاگے ہوئے دربار نبوی میں پہنچے اور کہا یا رسول اللہ مجھ سے بہت بڑی خطا سرزد ہوئی۔مجھے سعد کی بات کا یقین نہ آیا تھا۔اور میں نے خیال کیا کہ وہ یونہی یہ بات کہہ رہے ہیں۔اس لیے انکار کیا مگر اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے۔اور صدق دل سے معافی کا خواستگار ہوں۔میں نے اپنی لڑکی سعد سے بیاہ دی۔2۔حضرت جلیب بھی حضرت سعد کی طرح ظاہری طور پر اچھی شکل وصورت کے مالک نہ تھے۔آنحضرت ﷺ نے انصار کے ایک معزز گھرانے کی لڑکی کے ساتھ ان کا رشتہ تجویز کیا۔مگر لڑکی کے ماں باپ کو اس پر اعتراض تھا۔لڑکی کو اس کا علم ہوا تو قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی۔ماكان لمومن ولا مومنة اذا قضى الله و رسوله امرا ان يكون لهم الخيرة من امر هم یعنی جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مسلمان کو اس میں چون و چرا کی گنجائش نہ ہونی چاہیے۔اور اس صریح حکم خداوندی کے ہوتے ہوئے میں حیران ہوں کہ آپ اس تجویز کے کیوں مخالف ہیں۔میں اس رشتہ پر رضامند ہوں۔جو مرضی رسول کریم ﷺ کی ہے وہی میری ہے۔رسول کریم ﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو بہت مسرور ہوئے۔آنحضرت یہ ایک دفعہ مسجد نبوی میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔دوران خطبہ میں آپ نے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ ابھی مسجد سے باہر ہی تھے کہ حضور کا یہ ارشاد کان میں پڑا۔ان الفاظ میں گویا ایک جادو تھا اور اپنے محبوب کی آواز میں اس قدر شوکت تھی کہ پاؤں نے آگے قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔یوں معلوم ہوا کہ گویا کسی نے بریک لگادی۔آپ حالت بے اختیار میں وہیں بیٹھ گئے۔اور اتنی بھی جرات نہ کر سکے کہ مسجد میں پہنچ لیں اور تو اس حکم کی تعمیل کریں۔-4- حضرت طلحہ بن البراء آغاز شباب میں اسلام لائے۔تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ مجھے جو حکم چاہیں دیں میں اس کی بسر و چشم تعمیل کروں گا۔آپ نے فرمایا۔جاؤ اور اپنے باپ کو قتل کر دو۔وہاں کیا دیر تھی ایمان کی حرارت جسم کے رگ وریشہ میں ایسی سرائت کر چکی تھی کہ اس نے تمام دنیوی محبتوں کو رد کر دیا تھا۔اور آنحضرت ﷺ کی محبت دل و دماغ میں اس قدر غالب آچکی تھی کہ سب تعلقات اس کے سامنے بیچ نظر آتے تھے۔فوراً تلوار سنبھالی اور تعمیل ارشاد کے لیے روانہ ہوئے۔آنحضرت ﷺ نے یہ فدا کاری دیکھی تو واپس بلایا اور فرمایا۔میں قطع رحم کے لیے نہیں آیا ہوں۔-5 صحابہ آنحضرت ﷺ کے ہر حکم کی تعمیل کے لیے کس طرح بدل و جان ہر وقت تیار رہتے تھے۔اسے اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے اور اس کے مقابل پر نفسانی میلانات ور جحانات کو یکسر نظر انداز کر دیتے تھے۔اس کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیے۔آنحضرت ﷺ کے ہاں ایک کنیز ام ایمن نام تھیں۔آپ ان پر بہت خوش تھے۔اور ان کو اماں کہہ کر مخاطب فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی جنتی عورت سے شادی کرنا چاہے تو ام ایمن سے کرے۔حضرت زید بن حارثہ نے یہ بات سنی تو فوراً ان کے ساتھ نکاح کر لیا۔مشہور صحابی اسامہ جو آنحضرت ﷺ کو بہت محبوب تھے انہی کے بطن سے تھے۔آنحضرت ﷺ نے مدینہ کو بھی ملکہ کی طرح حرام قراردیا۔اور فرمایا تھا کہ مدینہ کے اردگرد کی نہ گھاس کائی جاسکتی ہے نہ جانوروں کا شکار جائز ہے اور نہ پرندے پکڑنے کی اجازت۔صحابہ کرام اس ارشاد کا بہت خیال رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ فرمایا کرتے تھے کہ مدینہ میں چرنے والے ہرنوں کو بد کانے کی بھی میں جرات نہیں کر سکتا۔7- ایک دن ایک بچہ نے کسی پرندہ کا شکار کیا تو حضرت عبادہ بن الصامت نے اسے دیکھ کر پرندہ کو اس سے چھین کر چھوڑ دیا۔www۔alislam۔org