مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 49 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 49

مسلم نوجوانوں کے نامے 97 مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے 98 کان خبر نہ ہوئی۔تین رات تک برابر یہ انتظام رہا مگر اس قدر رازداری کے ساتھ کہ قریش کو جو آنحضرت مے کی تلاش میں دیوانہ وار دشت و جبل کی خاک چھان رہے تھے مطلقاً خبر نہ ہوئی۔ا۔(مستدرک حاکم ج 3 ص 335) ۲۔( بخاری کتاب الادب)۔(مسند احمد ج 3 ص453) ؟ حوالہ جات ۴۔(اسد الغابہ ج 4 ص 34) (سیرۃ ابن ھشام ج 4 سریة بنی ملوح) ۵۔(اسد الغابہ ج1 ص235) ۶۔( بخاری کتاب المناقب) پاس فرمانِ نبوی 1- ایک صحابی حضرت سعد الاسود سیاہ رنگ اور کم رو تھے۔ان کی شکل و شباہت ان کی شادی میں روک تھی۔اور ان کی ظاہری بدصورتی کی وجہ سے کوئی شخص ان کے ساتھ اپنی لڑکی کے رشتہ پر رضامند نہ ہوتا تھا۔ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ کوئی شخص مجھے اپنی لڑکی کا رشتہ دینے کے لیے تیار نہیں۔کیونکہ میری ظاہری شکل وصورت اور رنگ ڈھنگ اچھا نہیں۔عمرو بن وہب قبیلہ بنوثقیف کے ایک نو مسلم تھے۔جن کی طبیعت میں درشتی تھی۔آنحضرت ﷺ نے حضرت سعد سے فرمایا کہ ان کے دروازہ پر جا کر دستک دو۔اور بعد اسلام کہو کہ نبی اللہ (ﷺ) نے تمہاری لڑکی کا رشتہ میرے ساتھ تجویز کیا ہے۔عمر بن وہیب کی لڑکی شکل وصورت کے علاوہ دماغی اور ذہنی لحاظ سے بھی نمایاں حیثیت رکھتی تھی۔حضرت سعد ان کے مکان پر پہنچے اور جس طرح آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسی طرح کہا۔عمرو بن وہیب نے یہ بات سنی تو آپ کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔اور اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ آگے جو کچھ ہوا وہ اس قدر ایمان پرور بات ہے کہ تمام مذاہب وملل کی تاریخ اس کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی۔خودلر کی اندر یہ ساری گفتگوسن رہی تھی۔اس کے باپ نے حضرت سعد کو جو جواب دیا اسے سن کر وہ تو واپس آگئے۔اور اسکے سوا اور کر بھی کیا سکتے تھے۔لیکن لڑکی خود باہر نکل آئی۔حضرت سعد کو آواز دے کر واپس بلا یا اور کہا کہ جب رسول اللہ (ﷺ) نے میرے ساتھ آپ کی شادی کی تجویز کی ہے تو پھر اس میں چون و چرا کی کیا گنجائش باقی رہ سکتی ہے۔یہ تجویز مجھے بسر و چشم منظور ہے اور میں اس چیز پر بخوشی رضامند ہوں۔جو خدا اور اس کے رسول کو پسند ہے اور ایمانی جرات سے کام لے کر باپ سے کہا کہ آپ نے آنحضرت ﷺ کی تجویز سے اختلاف کر کے بہت غلطی کی ہے اور بہت بڑے www۔alislam۔org