مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 4 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 4

8 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 7 مسلم نوجوانوں کے نامے میں پہنچے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں نے یہ سودا کیا ہے اور یہ درخت دیوار بنانے والے کے حوالہ کر دینے پر آمادگی ظاہر کی۔آنحضرت ہی ہے یہ سن کر نہایت مسرور ہوئے اور فرمایا۔ثابت کے لیے جنت میں کتنے درخت ہیں۔اس کے بعد حضرت ثابت اپنی بیوی کے پاس باغ میں پہنچے اور کہا کہ یہاں سے نکل چلو۔میں نے یہ باغ جنت کے ایک درخت کے عوض فروخت کر دیا ہے۔اس نیک بخت بیوی کا ایثار ملاحظہ ہو کہ اس پر نہایت مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ نہایت نفع مند سودا ہے۔(اصابہ جلد 7 ص58)۔صحابہ کرام کے ایثار کے ساتھ یہ واقعہ ان کی ایمانی حالت کا بھی آئینہ دار ہے۔موجود الوقت جائیداد کو آئندہ زندگی میں نفع کے خیال سے چھوڑ دینا اس وقت تک ممکن ہی نہیں ہوسکتا جب تک انسانی قلب اس یقین اور ایمان کے ساتھ پر نہ ہو کہ آنحضرت ﷺ کے دہن مبارک سے نکلی ہوئی بات ایک اور ایک دو کی طرح صحیح اور یقینی ہے۔اس واقعہ کو پڑھ کر جب ہم اپنے زمانہ کی حالت پر نظر کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس طرح لوگ معمولی معمولی باتوں پر اپنے بھائیوں کے ساتھ جھگڑتے اور تنازعات کرتے رہتے ہیں۔اور نہ صرف یہ کہ ان کے لیے ایثار پر آمادہ نہیں ہوتے بلکہ انہیں ان جائز اور واجبی حقوق سے محروم کرنے کے لیے کس طرح قانونی موشگافیوں کی آڑ لیتے ہیں۔اور طرح طرح کے حیلوں اور بہانوں سے کام لیتے ہیں تو ہمارا سرندامت سے جھک جاتا ہے۔کیا ہم امید رکھیں کہ ہمارے دوست اپنے بزرگوں کی مثال کو خضر راہ بنائیں گے اور بالخصوص اس واقعہ سے سبق حاصل کریں گے۔-3 حضرت لبید بن ربیعہ بہت فیاض آدمی تھے۔اور جاہلیت کے زمانہ میں یہ عہد کر رکھا تھا کہ جب بادِ صبا چلا کرے گی میں جانور ذبح کر کے لوگوں کو کھلایا کروں گا۔اور ہمیشہ اس عہد کو نبھاتے رہے لیکن ایک زمانہ ایسا آیا۔کہ آپ کی مالی حالت اس قابل نہ رہی۔تاہم اس عہد کو نہ ٹوٹنے دیا۔لیکن اپنے اس عہد کو نباہنے کے لیے خود انہیں جس قدر خیال تھا۔ان کے اسلامی بھائیوں کو اس سے کم نہ تھا۔اور وہ اپنے بھائی کے اس عہد کو ایفاء ہوتا دیکھنے کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ جب باد صبا چلتی تو بطور امداد اونٹ جمع کر کے حضرت لبید کے پاس بھیج دیتے۔کہ وہ اس عہد کے پورا کرنے کے قابل ہوسکیں۔اور ان کے اس عہد کی ذمہ داری براہ راست ان پر نہ ہونے کے باوجود وہ کبھی اپنے بھائی کے لیے ایثار سے غافل نہ ہوتے تھے۔- آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد جب سقیفہ بنو ساعدہ میں صحابہ کرام خلافت کا سوال حل کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تو اگر چہ بعض طبائع میں ایک قسم کی کشمکش موجود تھی اور بوجہ اسکے کہ تمام لوگ یکساں طور پر اعلیٰ درجہ کے تربیت یافتہ نہیں ہوتے اور پھر عربوں کی عصبیت تو مشہور ہی ہے۔یہ موقعہ نہایت نازک تھا اور اگر آنحضرت مہ کے فیض نے صحابہ کرام کو سراپا ایثار بنا کر نفسانیت کا خاتمہ نہ کر دیا ہوتا اور ادنی سی تحریک بھی عوام الناس کو زمانہ جاہلیت کی عصبیت کی طرف متوجہ کر دیتی تو خطرناک فتنہ کا دروازہ کھل جاتالیکن اس وقت بھی ان لوگوں میں ہمیں ایثار کا پہلو غالب نظر آتا ہے۔چنانچہ اس خطرہ کو بھانپ صلى الله کر ایک انصاری نوجوان حضرت زید بن ثابت اٹھے۔اور فرمایا کہ آنحضرت مہ مہاجر تھے۔اس لیے آپ کا خلیفہ بھی مہاجر ہی ہونا چاہیے۔ہمارے لیے یہ کافی فخر ہے کہ آپ کے انصار تھے اور جس طرح آپ کے انصار تھے اسی طرح آپ کے خلفاء کے بھی انصار ہی رہیں گے۔اور جذبات و نفسانیت کو اس طرح نظر انداز کر دینے کی تحریک کا نتیجہ یہ ہوا کہ با ہم نفاق و اختلاف کا دروازہ بند ہو گیا۔اور باوجود یہ کہ مختلف نسلوں اور قبائل کے مسلمان وہاں جمع تھے۔خلافت کا مسئلہ بخیر و خوبی طے ہو گیا اور کوئی جھگڑا پیدا نہ ہوا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 1820) 5- حضرت حمزہ جب جنگ احد میں شہید ہوئے تو ان کی حقیقی بہن حضرت صفیہ نے اپنے www۔alislam۔org