مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 29
58 مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 57 مسلم نوجوانوں کے نامے میں شک ہوتا اس کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔(بخاری جلد 1 - صفحہ 414) 3 حضرت عثمان بن ابی العاص آنحضرت ﷺ کے آخری زمانہ میں اسلام لائے تھے۔اور اس وقت آپ کی عمر بھی بہت چھوٹی تھی مگر علمی پایہ کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ یلڑ کا تفقہ فی الاسلام اور علم القرآن کا بڑا حریص ہے۔کم سنی کے باوجود امتیاز کے باعث آنحضرت ﷺ نے آپ کو بنی تخفیف کا امام مقرر فرمایا تھا۔(تہذیب الناس صفحہ 220) 4 - حضرت ابو سعید خدری کی عمر کو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بہت چھوٹی تھی تاہم آپ سے 1170 احادیث مروی ہیں جس سے اندازہ کیا جا کتا ہے کہ وہ حصول علم کا کس قدر شوق رکھتے تھے۔5- حضرت سعد بن زراہ کو آنحضرت ﷺ نے بوجہ ان کی علمیت کے بنو نجار کا نقیب مقررفرمایا تھا۔بلحا ظ سن و سال آپ سب نقیبوں میں سے چھوٹے تھے۔(اسد الغابہ جلد 1 - صفحہ 71) حضرت جابر بن عبداللہ کی عمر قبول اسلام کے وقت صرف 19-18 سال تھی۔لیکن تحصیل علم کا اس قدر شوق تھا کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن انیس کو ایک حدیث یاد ہے۔حضرت عبداللہ اس وقت شام میں رہتے تھے۔حضرت جابر نے ایک اونٹ خریدا اور اس حدیث کو سننے کے لیے ان کے پاس شام میں پہنچے۔اسی طرح ایک حدیث حضرت مسلمہ امیر مصر کو یاد تھی اور اسکی خاطر حضرت جابران کے پاس مصر پہنچے۔( فتح الباری جلد 1 صفحہ 159 ) 7 حضرت زید بن ثابت نے گیارہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا اور اسی وقت قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیا۔آنحضرت مہ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ سترہ سورتیں حفظ کر چکے تھے۔عرب کے نوجوان ابتدائی زندگی جس طرح گزارتے تھے اسے مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک اچنبھا بات تھی۔اس لیے لوگ آپ کو آنحضور کی خدمت میں لے گئے۔حضور ﷺ نے آپ سے قرآن سنا تو نہایت مسرور ہوئے۔۔حضرت زید بن ثابت جن کا ذکر مندرجہ بالا واقعہ میں ہو چکا ہے نہایت ذکی اور فہیم تھے۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس بعض خطوط سریانی اور عبرانی میں آتے ہیں جن کا اظہار کسی پر مناسب نہیں ہوتا۔اور یہ زبانیں سوائے یہود کے کوئی نہیں جانتا بہتر ہے کہ تم یہ زبان سیکھ لو۔چنانچہ آپ سیکھنے لگے۔اور اس قدر شوق اور محنت سے کام لیا کہ پندرہ ہی روز میں خطوط پڑھنے اور ان کا جواب لکھنے پر قادر ہو گئے۔( سند جلد 5 صفحہ 186) 9- حضرت سہل بن سعد کی عمر آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بہت چھوٹی تھی تاہم تحصیل علم کے شوق کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آپ سے 1188 احادیث مروی ہیں۔(سیر انصاریہ جلد 2 صفحہ 6 10 - حضرت عمر و بن خرم نے کمسنی میں اسلام قبول کیا تھا لیکن علمی قابلیت اصابت رائے اور قوت فیصلہ کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ بیس سال کی عمر میں ہی آنحضرت ﷺ نے آپ کو نجران کا حاکم مقرر کر کے بھیجا۔(سیر انصار جلد 2 صفحہ 117) 11 - حضرت عمیر بن سعد آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اس قدر کمسن تھے کہ غزوہ میں شرکت نہ کر سکے۔تاہم صحابہ میں بلحاظ علم وفضل ایسا بلند مرتبہ حاصل کر لیا تھا کہ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ کاش مجھے عمیر جیسے چند آدمی اور مل جاتے تو امور خلافت میں ان سے بہت مدد ملتی۔(سیر انصار جلد 2 صفحہ 120) 12 - مسلم نو جوانوں کو قرآن سیکھنے کا اس قدر شوق تھا کہ ایک دفعہ حضرت عمر نے کسی خاص غرض کے ماتحت حفاظ کی مردم شماری کرائی۔تو معلوم ہوا کہ فوج کے ایک دستہ میں تین سو سے www۔alislam۔org