مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 2
4 مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے 3 مسلم نوجوانوں کے نامے کے خلفاء کی قوت قدسیہ کے ماتحت مسلمان بچے کیا کیا خدمات بجالاتے رہے ہیں تو چونکہ خدا کے فضل سے ہماری جماعت میں ایمان اور اخلاص پہلے سے موجود ہے۔وہ اس عملی نمونہ کو دیکھ کر اپنے اندر ایک حیرت انگیز عملی تبدیلی پیدا کرسکیں گے۔روایات کا قومی اخلاق پر اتنا گہرا اثر ہوتا ہے کہ بعض محقیقین نے تو قوم کے لفظ کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ روایات کے مجموعہ کا نام ہی قوم ہے۔اور اس میں شبہ نہیں کہ ایک قوم کو دوسری قوم سے ممتاز کرنے والی زیادہ تر قومی روایات ہی ہوتی ہیں۔مگر روایات کو محض قصہ کے رنگ میں نہیں لینا چاہیے۔بلکہ ان کی تحریکی قوت سے فائدہ اٹھانا چاہیے تا کہ گذشتہ تاریخ ہماری آئندہ عمارت کے لیے بنیاد کا کام دے سکے۔میں اس مختصر تمہید کے ساتھ اس مجموعہ کو اپنے عزیز نو جوانوں کے سامنے پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں گے۔میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ شاکر صاحب اس کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں احمدی نوجوانوں کے کارناموں کو بھی شامل کر لیں گے کیونکہ ان میں بھی انسان کو بہت روح پرور نظارے ملتے ہیں۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد قادیان یکم اپریل 1939ء ہر کتاب کے ساتھ اس کے مصنف یا مؤلف کی طرف سے ایک تمہید ضروری سمجھی جاتی ہے اور اس رواج کے مطابق میں نے یہ چند سطور لکھنی ضروری سمجھی ہیں ورنہ تمہید میں جو کچھ ہونا چاہیے وہ سب حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے بیان فرما چکے ہیں۔اور میرے لیے صرف یہی باقی ہے کہ ہمیں حضرت ممدوح کا اس نوازش اور رہنمائی کے لیے شکر یہ ادا کروں جو دورانِ تالیف میں ہمیشہ میرے شامل حال رہی۔اور جو دراصل اس تالیف کا موجب ہے۔یہ سخت نا انصافی ہوگی اگر میں اس امر کا اقرار نہ کروں کہ اس تالیف کے سلسلہ میں مجھے دارالمصنفین اعظم گڑھ کی تصنیفات اور تالیفات سے گراں قدر امداد ملی ہے۔علاوہ ازیں میں نے " حضرت صاحبزادہ میر نما بشیر احمد صاحب ایم اے کی سیرت خاتم النبین “ سے بھی بہت استفادہ کیا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے 17 مارچ 1939 ء کے خطبہ جمعہ میں، جو 17اپریل 1939 ء کے الفضل میں شائع ہوا ہے۔روحانی جماعتوں کے لیے نوجوانوں کی اہمیت کو پوری وضاحت سے بیان فرما دیا ہے اور اس تالیف کا مقصد یہی ہے کہ اس سے نو جوانوں کی تربیت اور اصلاح میں مددمل سکے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس غرض کے پورا کرنے کا موجب بنائے۔اور سلسلہ کے نو جوان اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔آمین احباب میری علمی کم آئیگی سے بخوبی آگاہ ہیں۔اس لیے میری اس کوشش میں انہیں جو کوتاہیاں یا فروگزاشتیں نظر آئیں ان سے مجھے مطلع فرما ئیں تا کہ دوسرے ایڈیشن میں اصلاح کی جاسکے۔نیز وہ دوسرے حصہ کی تالیف میں ان کے مشوروں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔خاکسار رحمت اللہ خان شاکر اسٹنٹ ایڈیٹر اخبار الفضل مورخہ 5 اپریل 1939ء www۔alislam۔org