مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 19 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 19

مسلم نوجوانوں کے رنامے 37 مسلمانوں کی غلطی کی وجہ سے کفار نے دوبارہ حملہ کیا تو آنحضرت ﷺ کے گرد و پیش بہت تھوڑے آدمی رہ گئے تھے۔حضرت طلحہ نے اس وقت نہایت جان نثاری کا ثبوت پیش کیا۔اور اپنی جان پر کھیل کر حضور کی حفاظت کرتے رہے۔دشمن کی طرف سے جو تیر آتا اسے اپنے ایک ہاتھ پر روکتے تھے اور جب نیز ا آ کر لگتا تو ہاتھ کو ادھر ادھر جنبش دینا تو در کنار منه سے بھی اف تک نہ کرتے تھے۔مبادا حرکت پیدا ہو اور ہاتھ سامنے سے ہٹ جائے اور اس طرح رسول کریم ﷺ کو کوئی گزند پہنچ جائے۔آپ نے اسی ایک ہاتھ پر اس قدر تیر کھائے کہ وہ بالکل شل ہو گیا۔10 - جنگ بدر کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد الہی کے ماتحت صحابہ کرام کو یہ اطلاع نہ دی تھی کہ یقینا کوئی جنگ پیش آنے والی ہے۔جب مدینہ سے باہر آ گئے تو صحابہ کرام کو جمع کر کے تمام حالات ان کو بتائے اور ان سے مشورہ دریافت فرمایا کہ اب ہمیں کیا راہ اختیار کرنی چاہیے۔اکثر صحابہ نے نہایت پر جوش تقریریں کیں اور کہا کہ ہمارے مال اور جانیں سب راہ الہی میں حاضر ہیں۔ہم ہر وقت اور ہر میدان میں خدمت کے لیے تیار ہیں۔مگر آنحضرت ﷺ نے پھر فرمایا کہ لوگو! مشورہ دو۔کیا کرنا چاہیے۔اس پر صحابہ نے پھر اپنی فدائیت اور جاں نثاری کا یقین دلایا۔اور ایک صحابی حضرت مقداد بن اسود نے نہایت پر جوش تقریر کرتے ہوئے کہا۔یا رسول اللہ ! ہم موسیٰ کے اصحاب کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ جا تو اور تیرا رب لڑتے پھرو۔ہم یہاں بیٹھے ہیں۔جبکہ آپ جہاں بھی چاہتے ہیں ہمیں لے چلیں ہم آپ کے دائیں لڑیں گے اور بائیں لڑیں گے ، آگے لڑیں گے اور پیچھے لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہ پہنچ سکے گا۔جب تک کہ ہماری لاشوں پر سے نہ گزرے مگران تقریروں کے باوجود آنحضرت ﷺ نے پھر فرمایا کہ لوگو! مشورہ دو کہ کیا کرنا چاہیے۔اس پر ایک انصاری حضرت سعد بن معاذ نے کہا کہ یا رسول اللہ شاید آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔اور بات بھی دراصل یہی تھی۔انصار کے ساتھ چونکہ معاہدہ یہی تھا کہ مدینہ پر مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 38 حملہ ہونے کی صورت میں وہ دفاع کریں گے اور اب مدینہ سے باہرلڑائی کا امکان تھا۔آنحضرت ﷺ کو اس معاہدہ کا خاص خیال تھا اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ انصار کو اس سے زیادہ کے لیے مجبور کریں۔جتنی ذمہ داری اٹھانے کا انہوں نے وعدہ کیا تھا اس لیے آپ انصار کی رائے معلوم کرنا چاہتے تھے۔حضرت سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ خدا کی قسم جب ہم آپ کو سچا سمجھ کر آپ پر ایمان لے آئے تو اب اس معاہدہ کا کیا ذکر وہ تو اس وقت تک کے لیے تھا جب تک کہ ہمیں آپ کی پوری معرفت حاصل نہ تھی۔اب تو ہم آپ کو خود دیکھ چکے ہیں اس لیے آپ جہاں فرمائیں ہم آپ کے ساتھ چلیں گے۔اور قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ معبوث فرمایا اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کا ارشاد فرمائیں تو ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ ہٹے گا۔11 - حضرت زبیر بن العوام مصرف سولہ برس کے تھے جب اسلام قبول کیا لیکن حد درجہ مستقل مزاج اور جان نثار تھے۔آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص فدائیانہ تعلق رکھتے تھے۔ایک مرتبہ کسی نے مشہور کر دیا کہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ گرفتار کر لیا ہے۔حضرت زبیر کو یہ خبر پہنچی تو بے تاب ہو گئے اور باوجود یکہ مکہ میں مسلمانوں کی حالت اس وقت نہایت کمزور تھی آپ تلوار لے کر لوگوں کو چیرتے ہوئے حضور کی خدمت میں جا پہنچے۔حضور نے دیکھا تو دریافت فرمایا کہ کیا بات تھی۔آپ نے سارا واقعہ سنایا۔تو حضور بہت خوش ہوئے۔12۔پہلے بھی یہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کی حفاظت کا خاص خیال رکھتے تھے۔جنگ احد میں اس خاص نازک موقعہ پر جن لوگوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر اپنے محبوب رسول ﷺ کی حفاظت کی سعادت حاصل کی ان میں سے ایک حضرت عبدالرحمن بن عوف تھے۔اس معرکہ میں آپ کے بدن پر بیس زخم آئے۔مگر آپ نے قدم پیچھے نہ ہٹایا۔پاؤں میں ایک ایسا کاری زخم لگا تھا کہ مندمل ہونے کے بعد بھی اس کا اثر قائم رہا اور www۔alislam۔org