مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 86 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 86

172 مسلم نوجوانوں کے نامے 171 پیچھے ٹھہرا کر خود قلعہ کے اردگرد چکر لگایا۔اور اندازہ لگایا کہ ایک چھوٹا سا برج سنسان ہے یا تو اس پر کوئی پہریدار نہیں ہے اور یا اگر ہے تو سویا پڑا ہے۔حضرت وامس نے اپنے ساتھیوں میں سے دو کو تو واپس حضرت ابو عبیدہ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیج دیا کہ ایک ہزار سوار صبح ہونے سے قبل قلعہ کے نیچے پہنچ جائیں۔فصیل کی بلندی کو دیکھ کر اندازہ کیا کہ سات آدمی اگر نیچے اوپر کھڑے ہوں تو آخری آدمی او پر پہنچ سکتا ہے۔چنانچہ آپ نیچے کھڑے ہوئے اور چھ آدموں کو ایک دوسرے کے اوپر چڑھایا۔اس طرح آخری آدمی فصیل پر پہنچ گیا۔اور اس نے ایک رسہ کنگروں سے مضبوط باندھ دیا۔جس کے سہارے یہ سب مجاہدین برج میں داخل ہو گئے۔وہاں دو پہریدار شراب کے نشہ میں مدہوش پڑے تھے۔کیونکہ سویرے ہی مسلمانوں نے مصلحا لشکر اٹھا کر کوچ کا اعلان کر دیا تھا اور رومی ان کے واپس جانے پر جشن منا کر شراب سے بے ہوش ہو رہے تھے۔چنانچہ برج کے بے ہوش پہریداروں کو قتل کر دیا گیا۔حضرت وامس اپنے ساتھیوں کو لے کر دروازہ پر پہنچے اور پہریداروں کو قتل کرنا شروع کیا۔انکے شور مچانے پر فوجی بیدار ہو کر حملہ آور ہوئے۔حضرت وامس نے اپنے ساتھیوں کو دروازہ کے ساتھ ساتھ کھڑا کر دیا تا کہ اس پر قبضہ رہے اور رومیوں سے با قاعدہ جنگ ہونے لگی۔حضرت وامس نے ایسا مورچہ قائم کر لیا تھا کہ رومی زیادہ تعداد میں ان پر حملہ نہیں کر سکتے تھے۔جگہ تنگ تھی۔اور اتنے ہی رومی آگے بڑھ سکتے تھے جتنے اس میں سماسکیں۔اور جو آگے بڑھتے مسلمان مجاہدین ان کو تہ تیغ کر دیتے۔نصف شب سے لے کر صبح تک برابر یہ معرکہ جدال گرم رہا اور آٹھ مسلمان شہید ہو گئے۔صبح کے قریب قلعہ سے باہر اسلامی لشکر پہنچ گیا اور نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے لگا۔حضرت وامس نے یہ معلوم کر کے کہ مسلمان آپنے مدافعت کا خیال چھوڑ کر قلعہ کا دروازہ کھول دیا اور مسلمان فاتحانہ انداز میں اندر داخل ہو گئے۔اس لڑائی میں حضرت وامس کے بدن پر ستر زخم آئے مگر وہ برابرلڑتے رہے۔مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے ا۔( تاریخ طبری ص 2441) ۳۔(مستدرک حاکم ج 3 ص 4) ه - ( مسلم ج 2 ص 103) ۷- ( تاریخ اسلام ص 40) ۹- ( تاریخ اسلام) حوالہ جات ۲ - ( تاریخ طبری ص 1172) ۴۔(ابن سعد ج 8 ص 27) ۲ - ( تاریخ اسلام ص 307) - ( تاریخ اسلام ص 353) www۔alislam۔org