مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 85 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 85

170 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 169 مسلم نوجوانوں کے نامے محض شجاعت اور بہادری ہرگز کام نہیں آسکتی بلکہ اس کے ساتھ فہم وفراست سے کام لینا بھی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔مسلمان جب ایرانیوں کے ساتھ نبرد آزما تھے تو بصرہ کے حاکم حضرت عبداللہ بن عامر نے حضرت ہرم بن حیان کو جور کا محاصرہ کرنے کے لیے بھیجا۔اس محاصرہ نے طول پکڑا اور شہر میں داخلہ مشکل نظر آنے لگا۔حضرت ہرم بن حیان دن کے وقت روزہ رکھتے اور شب کو عبادت کرتے تھے۔ایک دن افطاری کے وقت انہیں کھانا نہ ملا لیکن انہوں نے صبر کیا اور اگلے روز پھر روزہ رکھ لیا۔مگر شام کو پھر کھانا نہ ملا اور اس طرح کئی روز گزر گئے۔آخر ایک روز انہوں نے اپنے خادم سے پوچھا کہ میرے لیے کھانا کیوں تیار نہیں ہوتا۔اس نے بتایا کہ میں تو ہر روز تیار کر کے رکھ جاتا ہوں معلوم نہیں کہاں جاتا ہے۔اس روز خادم نے مقررہ جگہ پر کھانا رکھا اور خود نگرانی کرتا رہا۔تھوڑی دیر میں ایک کتا آیا اور کھانا اٹھا کر چلتا ہوا۔خادم بھی پیچھے پیچھے ہو لیا اور اس نے دیکھا کہ کتا ایک بد رو کے رستہ شہر میں داخل ہو گیا۔خادم نے واپس آکر حضرت ہرم کو اطلاع دی۔انہوں نے اسے تائید غیبی سمجھا۔اور چند شجاع نو جوانوں کو ساتھ لے کر رات کے وقت اسی بدرو کے رستہ شہر میں جا داخل ہوئے۔محافظوں کو قتل کر کے دروازے کھول دیئے اور اس طرح اسلامی لشکر شہر پر قابض ہو گیا۔9- جنگ قادسیہ کے موقعہ پر جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو پہلے لشکر ایران میں سے ایک شہزادہ ہرمز نامی میدان میں نکلا اور مبارز طلب کیا۔حضرت غالب بن عبد اللہ اسدی اس کے مقابلہ کے لیے نکلے اور فوراً ہی اسے گرفتار کر کے اسلامی لشکر میں لے آئے۔اس کے بعد اہل فارس کا ایک اور بہت بڑا نا مور پہلوان آیا اور اس کے مقابلہ کے لیے حضرت عاصم پہنچے۔اور دونوں میں زور آزمائی ہونے لگی۔لیکن تھوڑی ہی دیر بعد ایرانی پہلوان میدان سے بھاگا۔حضرت عاصم نے اس کا پیچھا کیا اور عین اس وقت جب کہ وہ اپنے لشکر کی صف اول کے قریب پہنچ چکا تھا پیچھے سے اس کے گھوڑے کی دم کو پکڑ کر اسے ایک قدم بھی آگے اٹھانے سے روک دیا۔اور پھر اس پہلوان کو اس کے گھوڑے سے زبر دستی اٹھا کر اپنے گھوڑے پر بٹھا لیا اور اس طرح گرفتار کر کے اپنی فوج میں لے آئے۔10- ایرانی جب قادسیہ سے بھاگے تو ان کا ایک سردار شہر یار کوٹی کے مقام پر اپنی فوج کو جمع کر کے مسلمانوں سے انتقام لینے کے منصوبے سوچنے لگا۔حضرت زہرہ بھی تھوڑی سی فوج کے ساتھ ادھر سے گزرے تو ان کو شہریار کی تیاریوں کا علم ہوا۔اور وہ بھی ان کی آمد کی خبر سن کر باہر نکلا۔دونوں لشکر بالمقابل ہوئے اور شہر یار نے چیلنج کیا۔کہ تم میں سے جو شخص بہادر ترین ہو وہ میرے سامنے آئے۔حضرت زہرہ نے کہا کہ پہلے تو میرا ارادہ خود تم سے مقابلہ کرنے کا تھا مگر تمہارے اس غرور کو دیکھ کر میں کسی عام سپاہی کو بھیجتا ہوں۔چنانچہ آپ نے حضرت نائل بن چشم اعرج کو جو قبیلہ بنو تمیم کے غلام تھے بھیجا۔حضرت نائل دبلے پتلے اور شہر یار بڑی ڈیل ڈول کا آدمی تھا۔اور اس نے فورا ہی حضرت نائل کوگردن سے پکڑ کر نیچے گر الیا اور چھاتی پر چڑھ بیٹھا۔لیکن حضرت نائل کے منہ میں ان کے ہاتھ کا انگوٹھا آ گیا۔اور آپ نے اس پر اس زور سے کاٹا کہ وہ شدت درد کی تاب نہ لا سکا۔اور حضرت نائل اس کے نیچے سے نکل کر اس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھے اور خنجر کے ساتھ اس کا پیٹ چاک کر دیا۔اسلامی لشکر کے سپہ سالار نے حضرت نائل کو حکم دیا کہ شہر یار کی زرہ ہتھیار اور سارا لباس پہن کر سامنے آئے۔چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی۔11- رومیوں کے ساتھ جنگ کے سلسلہ میں مسلمانوں نے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔جس نے بہت طول کھینچا۔کفار باہر آتے نہ تھے اور مسلمان قریب جائیں تو تیر اور پتھر برساتے تھے۔حضرت ابو عبیدہ نے مدینہ سے کمک منگوائی۔جس میں ایک حبشی نژاد غلام حضرت وامس بھی تھے جن کی کنیت ابوالہول تھی۔انہوں نے آکر حضرت ابو عبیدہ سے کہا کہ مجھے تمہیں جان بازدے دیئے جائیں۔تو میں قلعہ کے اندر داخلہ کی کوئی صورت انشاء اللہ پیدا کرلوں گا۔رات کے وقت حضرت وامس تمہیں نوجوانوں کو لے کر قلعہ کے نیچے پہنچے اور ساتھیوں کو ذرا www۔alislam۔org