مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 63
مسلم نوجوانوں کے نامے 125 کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا تو بعض نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے جھاڑ پھونک کی ممانعت کی ہوئی ہے۔اس لیے اس تقسیم سے قبل آپ سے دریافت کر لینا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ اس معاوضہ کا استعمال ناجائز ہو اور ہم خواہ مخواہ گنہگار ہوں۔چنانچہ واپسی پر آپ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ کوئی جھاڑ پھونک نہیں۔معاوضہ تقسیم کرلو۔13- حد درجہ کے جری اور بہادر ہونے کے باجود صحابہ کرام اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہر وقت لرزاں رہتے تھے۔حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ عہد نبوت میں اگر کبھی تیز ہوا بھی چلتی تھی تو مسلمان خوف الہی سے کانپتے ہوئے مسجد کی طرف بھاگ اٹھتے تھے۔14 - حضرت عثمان کے دل پر اللہ تعالیٰ کا خوف اس قدر طاری رہتا تھا کہ جب کوئی جنازہ سامنے سے گزرتا تو بے اختیار آپ کی آنکھوں سے آنسور واں ہو جاتے تھے۔قبرستان سے گزر ہوتا تو روتے روتے ریش مبارک تر ہو جاتی تھی۔15- باوجود یہ کہ حضرت علی کی عمر قبول اسلام کے وقت بہت چھوٹی تھی لیکن آپ نہایت عابد و زاہد تھے۔اس کی تفاصیل میں جانے کے بجائے صرف اس قدر کہہ دینا کافی ہے کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ کان ما علمت صائماً قواماً یعنی جہاں تک مجھے علم ہے وہ بہت روزہ دار اور عبادت گار تھے۔16۔زبیر بن سعید کی روایت ہے کہ لم ارهاشمیا قط کاناعبداللہ منہ یعنی میں نے کسی ہاشمی کو ان سے زیادہ عبادت گزار نہیں دیکھا۔17 - حضرت عبد اللہ بن زبیر آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بہت کم سن تھے۔تاہم بے حد عبادت گزار تھے۔نماز اس قدر استغراق سے پڑھتے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ایک بے جان ستون کھڑا ہے۔رکوع اتنا لمبا کرتے کہ اتنے عرصہ میں ساری سورۃ بقرہ ختم کی جاسکے۔سجدہ میں گرتے تو اس قدر محویت طاری ہوتی تھی کہ چڑیاں آکر پیٹھ پر بیٹھ جاتی تھیں۔18 - مردوں کے علاوہ مسلم خواتین کو بھی عبادت گزاری اور قرب الہی کے حصول کا بے حد شوق مسلم نوجوانوں کے 126 رہتا تھا۔اور وہ یہ گوارا نہیں کر سکتی تھیں کہ تقویٰ اللہ میں وہ مردوں سے پیچھے رہیں۔چنانچہ حضرت اسماء بنت یزید جب چند اور عورتوں کے ہمراہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بغرض بیعت حاضر ہوئیں تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں مسلمان عورتوں کی طرف سے کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں۔حضور نے اجازت دی تو عرض کیا کہ ہم بھی حضور کے دست حق پرست پر ایمان لائی ہیں۔مگر ہماری حالت مردوں سے مختلف ہے۔مرد نماز باجماعت اور نماز جمعہ میں شریک ہوتے ہیں، نماز جنازہ پڑھتے ہیں، مریضوں کی عیادت کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہیں مگر ہم پردہ نشین ہیں۔اور ان نیکیوں میں حصہ نہیں لے سکتیں۔گھروں میں بیٹھ کر اولاد کی پرورش کرتی ہیں اور مردوں کے مال و اسباب کی حفاظت کرتی ہیں تو کیا اس صورت میں ہم کو بھی ثواب ملے گا۔آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کیا تم لوگوں نے کبھی کسی عورت سے ایسی برجستہ گفتگو سنی ہے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ نہیں۔آپ نے حضرت اسماء کو فرمایا کہ اگر عورتیں فرائض زوجیت ادا کرتیں، اور شوہر کی اطاعت کرتی ہیں تو جس جس قدر ثواب مرد کو ملتا ہے اسی قدر عورتوں کو بھی ملتا ہے۔حوالہ جات ا۔(ترمذی ابواب الزہد ) ۳۔(تہذیب التہذیب ج 5 ص 330) ( بخاری کتاب الصلوۃ) ۴۔(اسد الغابہ ج 3 ص 566) (حلیۃ الاولیاء زیر لفظ عکرمہ ) ؟ ( دار می ص 207) ۲۔(حلیۃ الاولیاء زیر لفظ حرام بن ملحان) ؟۔(مستدرک حاکم ج 3 ص 374) ۶۔(حلیۃ الاولیاء زیر لفظ ابوسفیان بن حارث) ؟۔(سیر انصارج 2 ص 63) ۱۰۔(اسد الغابہ ج 3 ص 451) ے۔(اسد الغابہ ج 2 ص 373) و۔(مسند احمد ج 5 ص 45) ۱۱۔( بخاری کتاب المغازی) ۱۳۔( ابوداؤد کتاب الصلوۃ) ۱۵۔(ترمذی کتاب المناقب)۔(اسد الغابہ ج 3 ص 134) ۱۲۔( بخاری کتاب الطب) ۱۴۔( مسند احمد ج 1 ص 102) ۱۲۔(مستدرک حاکم ج 3 ص 108) ۱۔(اسد الغابہ ج 6 ص 18) www۔alislam۔org