مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 52
مسلم نوجوانوں کے ی کارنامے کرتے تھے۔103 4- بیئر معونہ کے مقام پر ستر قاریوں کے کفار کے ہاتھوں شہید ہونے کا واقعہ کسی دوسری جگہ ذکر کیا جا چکا ہے۔ان قاریوں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ دن کے وقت جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور اس طرح اپنے واسطے قوت لایموت کا سامان مہیا کرتے تھے اور پھر رات کا بہت سا حصہ عبادت میں گزارتے تھے۔-5- آنحضرت ﷺ پہلے مسجد میں ایک ستون کے سہارے کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے منبر کا خیال ظاہر فرمایا تو ایک صحابی حضرت سہل جو کمسن ہی تھے اٹھے اور منبر کے لیے جنگل سے لکڑی کاٹ کر لے آئے۔6- حضرت کعب بن عجزہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ حضور کا چہرہ مبارک بھوک کی وجہ سے متغیر ہو رہا ہے۔چنانچہ آپ فوراً مجلس سے اٹھے اور باہر چلے گئے۔ایک یہودی اونٹوں کو پانی پلا رہا تھا۔اس سے فی ڈول ایک چھوہارہ کے حساب سے مزدوری طے کی اور اس طرح کچھ چھوہارے جمع کر کے لائے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیے۔7- حضرت عبد اللہ بن سلام ایک متمول صحابی تھے۔ایک دفعہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے آرہے ہیں تو کہا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس سے مستغنی کیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں کبر وغرور کا قلع قمع کرنا چاہتا ہوں۔۔حضرت سعد بن ابی وقاص، جنہوں نے 19 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا کا شمار کبار صحابہ میں ہے۔آپ نہایت عالم و فاضل، جرنیل اور معزز عہدوں پر متمکن ہوتے رہے۔آپ کا علمی پایہ اس قدر بلند تھا کہ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ جب سعد رسول ﷺ سے کوئی روایت بیان کریں تو پھر اس کے متعلق کسی اور تصدیق کی ضرورت نہیں۔لیکن سادگی اور ہاتھ سے کام کرنے کی جو تعلیم معلم اسلام سے حاصل کی اسے کسی رتبہ پر پہنچ کر بھی نہ مسلم نوجوانوں کے 104 چھوڑا۔ایک مرتبہ آپ جنگل میں اونٹ چرا رہے تھے کہ خود ان کے لڑکے نے آ کر کہا کہ یہ بھی کوئی اچھی بات ہے کہ لوگ تو بادشاہتیں اور حکومتیں کریں اور آپ جنگل میں اونٹ چراتے پھریں۔آپ نے اس کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا چپ رہو میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے کہ خدا تعالیٰ مستغنی اور پر ہیز گار بندے کو محبوب رکھتا ہے۔و حضرت سلمان فارسی مدائن کے گورنر تھے۔پانچ ہزار دینار ماہانہ مشاہرہ ملتا تھا مگر باوجود اس کے اپنے ہاتھ سے چٹائیاں بن کر ذریعہ معاش پیدا کرتے تھے۔اور تنخواہ سب کی سب راہ خدا میں صرف کر دیتے تھے۔10 - حضرت علی کرم اللہ وجہ کی فضیلت محتاج تشریح نہیں۔آپ آنحضرت ﷺ کے داما داور اہل بیت میں شامل تھے۔حضرت فاطمہ الزہرا کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا تو دعوت ولیمہ کا کوئی سامان نہ تھا۔آپ کے پاس صرف دو اونٹنیاں تھیں۔آپ نے تجویز کیا کہ جنگل میں سے ایک گھاس جسے اذخر کہتے ہیں اور جو سناروں کے کام آتی ہے لاد کر لائیں اور اسے سناروں کے پاس بیچ کر دعوت ولیمہ کے لیے سامان فراہم کریں۔11 - حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ کنا مع رسول الله صلعم خدام۔یعنی ہم سب آنحضرت ﷺ کے ساتھ خود اپنے خادم ہوتے تھے اور باری باری اپنے اونٹ چراتے تھے۔12۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کو فاقہ کی حالت میں پا کر حضرت علی ایک یہودی کے باغ میں آئے۔اور فی ڈول ایک کھجور معاوضہ طے کر کے سترہ ڈول پانی کے کھینچے۔اور اس طرح سترہ کھجوریں حاصل کر کے آنحضرت ﷺ کے حضور لا کر پیش کیں۔اور 13 - حضرت عبد اللہ بن عمر سفر میں ہوتے تو جو کام خود کر سکتے وہ کسی دوسرے کے سپرد نہ کرتے تھے۔حتی کہ اپنی اونٹنی کو خود بٹھاتے۔اور خود سوار ہوتے تھے۔14۔حضرت عبدالرحمن بن عوف ہجرت کر کے آئے تو حضرت سعد بن الربیع کے ساتھ مواخات www۔alislam۔org