مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 51
102 مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے 101 مسلم نوجوانوں کے نامے 8- حضرت سعد بن ابی وقاص نے ایک مرتبہ کسی غلام کو مدینہ میں شکار کرتے دیکھ لیا تو اس کے کپڑے چھین لیے اور کہا کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے خلاف مدینہ کی حدود میں شکار کرنے کی یہی سزا ہونی چاہیے۔ا۔(اسد الغابہ ج 2 ص 202) ۳۔(اصابہ ج 3 ص 462) حوالہ جات ۲۔(سیر انصارج1 ص274) ۴۔(اصابہ ج 3 ص 426) ۵۔(اسد الغابہ ج 2 ص 140 تا 142 ) 4۔(مسلم کتاب الحج) ے۔(مسند احمد ج 5 ص 317) ۸۔(ابوداؤد کتاب المناسک) ہاتھ سے کام کرنا صحابہ کرام کے اخلاق میں یہ چیز نہایت نمایاں نظر آتی ہے کہ وہ لوگ ہاتھ سے کام کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔اور اس میں کسی قسم کی ہتک یا سبکی کا خیال ان کے دامن گیر نہ ہوتا تھا۔جنگ اور اس کے ضمن میں خدمات کے وقت وہ جس شوق سے کام کرتے تھے اس کو نظر انداز کر کے عام زندگی کے چند واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔آنحضرت ﷺ پہلے پہل جب مدینہ میں تشریف لائے تو سب سے پہلا کام ایک مسجد کی تعمیر تھا۔جس کا سنگ بنیاد آنحضرت اللہ نے اپنے ہاتھ سے رکھا۔اس مسجد کے معمار اور مزدور سب کچھ صحابہ خود تھے۔آنحضرت ﷺ خود بھی کبھی کبھی ان کے ساتھ شرکت فرماتے تھے۔یہ کام صحابہ نہایت شوق سے کرتے اور بعض اوقات ساتھ ساتھ یہ شعر بھی پڑھا کرتے ہذا ابرر بنا راھر ہذا الحمال لا حمال خیبر یعنی یہ بوجھ خیبر کے تجارتی مال کا بوجھ نہیں جو اونٹوں پر لاد کر آیا کرتا ہے بلکہ اے مولا یہ تقویٰ وطہارت کا بوجھ ہے جو ہم تیری رضا کے لیے اٹھاتے ہیں۔اسی طرح قباء کے مقام پر بھی جہاں مہاجرین پہلے پہل آکر آباد ہوئے تھے صحابہ نے خود اپنے ہاتھوں سے مسجد تعمیر کی تھی۔! 2 حضرت ابودرداء ایک نہایت بلند پایہ اور فاضل صحابی تھے۔ان کے حلقہ ء درس میں بیک وقت سینکڑوں طلباء کی حاضری لکھی ہے۔مگر انہیں ہاتھ سے کام کرنے کا اس قدر شوق تھا کہ دمشق کی مسجد میں جہاں وہ امام تھے اپنے ہاتھ سے درخت لگایا کرتے اور ان کی پرورش و دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ ایک شخص نے تعجب کے رنگ میں ان سے کہا کہ یہ کام اپنے ہاتھ سے کرتے ہیں تو فرمایا اس میں بڑا ثواب ہے۔- حضرت حرام بن ملحان مسجد نبوی میں خود پانی بھرا کرتے تھے۔جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور ان کو فروخت کر کے اصحاب الصفہ اور دوسرے محتاجوں کے لیے خوراک مہیا کیا www۔alislam۔org