مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 3
6 مسلم نوجوانوں کے 5 مسلم نوجوانوں کے سنہ ی کارنامے ایثار صحابہ کرام کا نوجوان طبقہ اپنے بھائیوں کے لیے مجسم ایثار و قربانی تھا۔تاریخ اسلام کے اوراق اس کی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں جن میں سے چند ایک واقعات بطور نمونہ درج کیے جاتے ہیں۔ہمارے نوجوانوں دوستوں کو ان سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔1 ایک غزوہ میں حضرت عکرمہ بن ابی جہل ، حضرت حارث بن ہشام اور حضرت سہیل بن عمر زخمی ہوئے۔تینوں جان کنی کی حالت میں تھے اور شدید پیاس محسوس کر رہے تھے۔ایسی حالت میں ایک شخص عکرمہ کے لیے پانی لایا۔ظاہر ہے کہ ایسے نازک وقت میں اس پانی کے چند قطرات ان کے لیے کتنی بڑی قیمتی چیز تھے۔عام حالات میں دوسرے کے لیے ایثار کرنا اور اپنے جذبات کو دوسرے کے لیے قربان کر دینا کوئی ایسی مشکل بات نہیں لیکن جب انسان کو اپنا آخری وقت نظر آرہا ہو اور وہ جانتا ہو کہ اس وقت پانی کا ایک قطرہ میرے لیے آب حیات کا حکم رکھتا ہے۔اس وقت اپنی حالت کو فراموش کر دینا اور اپنے بھائی کی ضرورت کا احساس کر کے اسے مقدم کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔اس کا اندازہ ہر شخص بآسانی لگا سکتا ہے۔لیکن لاکھوں لاکھ درود ہوں اس مقدس وجود پر جس نے عرب کے وحشیوں میں ، جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ایسا انقلاب عظیم پیدا کر دیا کہ وہ اپنے بھائی کی ضرورت کود یکھ کر اپنی حالت کو بالکل ہی بھول جاتے تھے۔چنانچہ جب پانی حضرت عکرمہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے دیکھا کہ حضرت سہیل محسرت بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔اور آپ کی اسلامی اخوت اور جذبہ ایثار کے لیے یہ چیز نا قابل برداشت ہوگی کہ خود پانی پی لیں۔در آنحالیکہ آپ کا بھائی پاس ہی پیاسا پڑا ہو۔چنانچہ فرمایا کہ پہلے ان کو پلاؤ۔وہ شخص پانی لے کر حضرت سہیل کے پاس پہنچا۔مگر وہ بھی اسی چشمہ ، روحانیت سے فیض یاب تھے جس کا ہر ایک قطرہ نفسانیت کے لیے موت کا حکم رکھتا تھا۔چنانچہ حضرت سہیل کی نظر اس وقت حضرت حارث پر پڑی اور آپ نے دیکھا کہ وہ بھی پانی کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے تک رہے ہیں۔اس خیال کا آنا تھا کہ آپ کے لیے اس پانی کو اپنے حلق سے اتارنا ناممکن ہوگیا۔یہ کیونکر ممکن تھا کہ آپ اپنی جان کو اپنے بھائی کی جان سے زیادہ قیمتی سمجھ سکتے۔اور اسے پیاس کی حالت میں چھوڑ کر خود پانی پی لیتے۔چنانچہ پانی لانے والے سے کہا کہ پہلے حضرت حارث کو پلاؤ۔وہ پانی لے کر ان کے پاس پہنچا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان تینوں میں سے کوئی بھی پانی نہ پی سکا اور سب نے تشنہ کامی میں جانِ عزیز آفریں کے سپر د کر دی۔انا اللہ وانا الیہ راجعون۔غور فرمائیے کہ ان تینوں کے درمیان کوئی دنیوی رشتہ نہ تھا بلکہ اسلامی اخوت تھی۔جس نے دوسرے کو پیاس کی حالت میں دیکھ کر حلق سے پانی کے چند قطرات کا اترنا ناممکن بنا دیا۔اور پھر سوچے کہ کیا یہ کیفیت کسی دنیوی تدبیر سے انسان کے اندر پیدا کی جاسکتی ہے؟ 2- ایک مسلمان اپنے باغ کی دیوار تعمیر کرنا چاہتا تھا لیکن بیچ میں ایک دوسرے شخص کا درخت آتا تھا۔دیوار بنانے کے خواہش مند نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یہ درخت مجھے دلوا دیجئے۔تاکہ میری دیوار سیدھی بن سکے لیکن درخت کا مالک اسے دینا پسند نہ کرتا تھا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ درخت دے دو تو اس کے عوض جنت میں تمہیں درخت ملیں گے۔مگر وہ اپنا درخت دینا پسند نہ کرتا تھا۔اور آنحضرت ﷺ بھی بطور حکم اسے یہ کہنا نہ چاہتے تھے۔ایک اور نوجوان صحابی حضرت ثابت بن وحداح کو جب اس کا علم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس درخت کے عوض تمہیں جنت میں درخت ملیں گے تو آنحضرت ﷺ کی خواہش کو پورا کر کے جنت الفردوس میں باغات کے حصول کی خواہش نے ان کو بے تاب کر دیا اور فور درخت کے مالک کے پاس پہنچے اور اس سے کہا۔کہ مجھ سے میرا باغ لے لو اور اس کے عوض یہ درخت مجھے دے دو۔اس کو اور کیا چاہیے تھا۔فوراً معاملہ طے ہو گیا۔حضرت ثابت یہ طے کر کے آنحضرت ﷺ کی خدمت www۔alislam۔org