مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 20 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 20

40 مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 39 مسلم نوجوانوں کے ہمیشہ کے لیے پاؤں لنگڑا ہو گیا تھا۔آنحضرت ﷺ جب کبھی باہر تشریف لے جاتے تو اکثر صلى الله حضرت عبدالرحمن بھی پیچھے پیچھے ہو لیتے تھے۔ایک نخلستان میں پہنچ کر آنحضرت میلہ سجدہ میں گر گئے۔اور اس قدر لمبا سجدہ کیا کہ حضرت عبد الرحمن کو خیال گزرا کہ شاید روح اطہر قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔محبت کی وجہ سے یہ خیال آتے ہی بے تاب ہو گئے اور گھبرا کر قریب آئے۔پاؤں کی آہٹ پاکر آنحضرت ﷺ نے سر اٹھایا۔اور دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے حضرت عبدالرحمن نے اپنی گھبراہٹ کی وجہ بیان کی۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ سجدہ شکر تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر درود بھیجے گا وہ خود اس پر درود بھیجے گا۔13 آنحضرت ﷺ جب کہیں باہر تشریف لے جاتے تو حضرت بلال خدمت کے لیے ہمرکاب رہتے اور ہاتھ میں بلم لے کر آگے آگے چلتے تھے۔آپ کی ناداری او افلاس ایک معروف بات ہے۔تاہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ جو عشق تھا اس کے اظہار کے لیے آپ کی دعوت کا بہت شوق رہتا تھا۔چنانچہ محنت و مزدوری سے کچھ نہ کچھ اس غرض سے پس انداز کرتے رہتے تھے۔ایک دفعہ نہایت اعلیٰ درجہ کی خوش ذائقہ کھجور میں لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا بلال یہ کہاں سے حاصل کیں۔عرض کیا، یا رسول اللہ میرے پاس کھجور میں تو تھیں مگر بہت خراب اور حضور کے پیش کرنے کے نا قابل۔اس لیے میں نے ان کھجوروں کے دو صاع دے کر یہ ایک صاع حاصل کی ہیں۔تا حضور کو پیش کر سکوں۔آئندہ کے لیے گو حضور نے اس قسم کے سودے سے منع فرما دیا تا ہم اس سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ آپ کی محبت کا با آسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔14 - حضرت زید بن حارث کو ایک اچھے خاندان کے نونہال تھے مگر اتفاق ایسا ہوا کہ ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے بچپن ہی میں ان کی متاع آزادی کو چھین لیا۔اور عکاظ کے بازار میں فروخت کے لیے لے آئے۔جہاں حکیم بن حزام نے خرید کر اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کے حضور پیش کر دیا اور اس طرح آپ آنحضرت ﷺ کے حضور پہنچے۔ایک دفعہ ان کے قبیلہ کے بعض لوگ بہ نیت حج مکہ میں آئے تو انہیں پہچان لیا اور جا کران کے والد کو خبر دی۔جس پر اس کا خوش ہونا ایک طبعی بات تھی چنانچہ وہ اپنے بھائی کو ساتھ لے کر مکہ میں پہنچا۔اور آنحضرت ﷺ سے بصد منت والحاح عرض کیا کہ میرے لڑکے کو آزاد کر دیں۔اور جو فدیہ چاہیں لے لیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ فدیہ کی ضرورت نہیں زید کو بلا کر پوچھ لیا جائے اگر وہ جانا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔چنانچہ حضرت زید کو بلایا گیا۔اور آنحضرت مہ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم ان لوگوں کو جانتے ہو۔انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یہ میرے والد اور چچا ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر ان کے ساتھ جانا چاہو تو جاسکتے ہو۔ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ بچپن میں ہی والدین، عزیز واقارب اور وطن عزیز سے چھوٹ جانے والے کو اتنے لمبے عرصہ کی مایوسی کے بعد جب پھر ان سے ملنے کا موقعہ ملے اور پھر اپنے محبوب وطن میں جا کر ماں باپ، بہن بھائیوں دوسرے رشتہ داروں ، دوست ، احباب اور بچپن کے ہم جولیوں سے آزادانہ طور پر ملنے جلنے میں کوئی رکاوٹ بھی نہ اس کے رستہ میں حائل نہ ہو تو اس کے جذبات ایسے وقت میں کیا ہو سکتے ہیں۔سامنے باپ اور چچا کھڑے تھے اور اس یقین کے ساتھ ان کے دل بھرے ہوئے تھے کہ ہمارا لخت جگر اب ہمارے ساتھ جائے گا۔جدائی کی دیگر از گھڑیاں اب ختم ہونے کو ہیں اور پھر اس کا کوئی امکان بھی نہیں ہوگا۔وہ تاعمر ہمارے پاس ہی رہے گا۔وہ یہ وہم بھی نہ کر سکتے تھے کہ جب زید کو آنحضرت نہ جانے کا اختیار دے رہے ہیں تو اسے اس میں کوئی تامل ہوسکتا ہے مگر حضرت زید نے جواب دیا کہ میں حضور پر کسی کوترجیح نہیں دے سکتا۔آپ ہی میرے باپ اور ماں ہیں۔آپ کے در کو چھوڑ کر میں کہیں جانا پسند نہیں کرتا۔اس جواب کو سن کر ان کے والد اور چا محو حیرت ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ زید کیا تم ہم پر غلامی کو ترجیح دیتے ہو۔حضرت زید نے کہا کہ ہاں مجھے اس ذات پاک میں ایسی خوبیاں نظر آتی ہیں کہ اس پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔www۔alislam۔org