مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 17 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 17

34 مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 33 مسلم نوجوانوں کے سے انہیں پیچھے ہٹنے کو کہا تو اتفاق سے تیر کی لکڑی آہستہ سے ان کے سینہ میں لگی۔انہوں نے جرات کر کے عرض کیا۔کہ یا رسول اللہ آپ کو خدا نے حق وانصاف کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔مگر آپ نے مجھے ناحق تیر مارا۔میں تو اس کا بدلہ لوں گا۔صحابہ کرام ان کی اس بات پر دل ہی دل میں بہت پیچ و تاب کھا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ ایسے گستاخانہ کلمات ادا کرنے والی زبان کاٹ ڈالیں۔گوادب کی وجہ سے بولتے نہ تھے۔ان کے یہ جذبات بھی اس عشق کا نتیجہ تھے جو ان کو اپنے ہادی مے کے ساتھ تھا۔لیکن اپنی محبت کے باعث وہ اس محبت کا اندازہ نہ کر سکتے تھے جس کا چشمہ حضرت سواد کے دل میں اہل رہا تھا۔اور جس سے مجبور ہوکر انکے منہ سے یہ گستاخانہ الفاظ نکلے تھے۔آنحضرت ﷺ جو سراپا انصاف اور مساوات تھے کب اس بات کو گوارا کر سکتے تھے کہ کسی شخص کے دل میں خیال رہے کہ آپ نے اس سے زیادتی کی ہے۔چنانچہ آپ نے فوراً فرمایا کہ بہت اچھا تم مجھ سے بدلہ لے لو۔انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرا سینہ نگا تھا۔جس وقت آپ کا تیر مجھے لگا۔یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے بھی اپنے سینہ مبارک سے کپڑا اٹھا دیا۔اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ دنیائے عشق و محبت میں ہمیشہ یاد گار رہے گا۔حضرت سواد آگے بڑھے اور نہایت ادب کے ساتھ اپنے پیارے محبوب کے سینہ مبارک کو چوم لیا۔اور اس طرح اپنی بے قرار روح کی تسکین حاصل کی۔یہ دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔سواد یہ تمہیں کیا سوجھی۔حضرت سواد نے رقت بھری آواز میں عرض کیا۔یا رسول اللہ زبردست دشمن کے ساتھ مقابلہ ہے جنگ کا میدان ہے اور کوئی دم معرکہ کارزار گرم ہونے والا ہے خدا جانے کون زندہ رہتا ہے اور کسے شہادت کا درجہ نصیب ہوتا ہے معلوم نہیں۔پھر اس مقدس وجود کو دیکھنے کا موقعہ ملتا ہے یا نہیں۔میرے دل میں یہ خیالات موجزن تھے کہ معلوم نہیں پھر اس مقدس و اطہر جسم کو چھونے کی سعادت کبھی حاصل ہو سکے گی یا نہیں اس لیے میں نے چاہا کہ مرنے سے قبل ایک مرتبہ آپ کے جسم مبارک کو تو چھولوں اور اس کے لیے میرے دل نے یہی صورت تجویز کی۔الله -4 حضرت سعد بن ربیع جنگ احد میں سخت زخمی ہو گئے تھے۔جنگ کے بعد آنحضرت ما نے حضرت ابی بن کعب کو انکے متعلق دریافت حال کے لیے بھیجا۔وہ تلاش کرتے ہوئے بڑی مشکل سے آپ تک پہنچے۔حضرت سعد اس وقت حالت نزع میں تھے۔حضرت ابی نے ان سے دریافت کیا کہ کوئی پیغام ہو تو دے دو۔اب ہر شخص اپنے دل میں غور کرے کہ ایسی حالت اگر اسے پیش آئے تو وہ کیا پیغام دے گا۔یقیناً اس کے سامنے اس وقت اس کے بیوی بچے عزیز واقارب مال اور جائیداد اور لین دین کے معاملات ایک ایک کر کے آتے جائیں گے۔اور اس موقعہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے جس قدر تفصیل سے ممکن ہو بیوی بچوں کے مستقبل، ان کے ساتھ اظہار محبت والفت تلقین صبر و رضا، جائداد و املاک کے مناسب انتظام وغیرہ وغیرہ امور کے متعلق ہدایات دینا ضروری سمجھے گا لیکن اس سعید نوجوان نے عین اس وقت جبکہ اسے اپنی موت نہایت ہی قریب نظر آرہی تھی اور وہ دیکھ رہا تھا کہ بہت تھوڑے عرصہ کے بعد اس کی آنکھیں بند ہو جائیں گی، طاقت گویائی سلب ہو جائے گی اور اس کے لیے اپنے متعلقین کے واسطے کوئی پیغام دینا ناممکن ہو جائے گا۔لیکن باوجود اس کے اس وقت نہ اس کے سامنے اپنی بیوی کی بیوگی آئی، اور نہ اس کے سامنے بچوں کی یتیمی ، کہ ان کے تعلق میں کوئی جملہ زبان سے نکالتا۔اور اس نے جو پیغام دیا وہ یہ تھا کہ میرے بھائی مسلمانوں کو میرا پیغام پہنچادینا اور میری قوم سے کہنا کہ اگر تمہاری زندگی میں رسول خدا ﷺ کو کوئی تکلیف پہنچ گئی تو یاد رکھنا کہ خدا تعالیٰ کے حضور تمہارا کوئی جواب مسموع نہ ہوگا۔یہ الفاظ کہے اور جان دے دی۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔5- ایک مرتبہ آنحضرت میلہ نے ایک بدو سے گھوڑا خریدا۔اور سودا طے ہو گیا لیکن لوگوں کو اس کا علم نہ تھا۔اس لیے حضور جب تشریف لے جارہے تھے تو کسی نے اسے زیادہ قیمت پیش کر دی۔اس نے چاہا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اس کا جو سودا طے ہو چکا ہے اسے کسی www۔alislam۔org