مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 1
2 مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 1 مسلم نوجوانوں کے سنہ ی کارنامے تعارف از حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر صاحب ایم۔اے) شیخ رحمت اللہ صاحب شاکر کی کتاب جس کا عنوان ”مسلم نو جوانوں کے سنہری کارنامے“ ہے اسوقت طبع ہو کر اشاعت کے لیے تیار کی جارہی ہے۔شاکر صاحب نے مجھ سے خواہش کی کہ میں اس کتاب کے دیباچہ کے طور پر چند سطور لکھ کر دوں جس کی تعمیل میں میں یہ حروف قلمبند کر رہا ہوں۔شاکر صاحب نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے وہ ایک عرصہ دراز سے بلکہ طالب علم کے زمانے سے میرے مدنظر تھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ جب یہ خاکسار سکول کی نہم اور دہم جماعت میں تعلیم پاتا تھا تو اس وقت ہمیں ایک انگریزی کی کتاب ”گولڈن ڈیڈز Golden Deeds پڑھائی جاتی تھی۔جس میں مغربی بچوں اور نو جوانوں کے سنہری کارناموں کا ذکر درج تھا۔مجھے اس کتاب کو پڑھ کر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ایک کتاب اردو میں مسلمان نوجوانوں کے کارناموں کے متعلق لکھی جائے جس میں مسلمان بچوں کے ایسے کارنامے درج کیے جائیں جو مسلمان نونہالوں کی تربیت کے علاوہ دوسری قوموں کے لیے بھی ایک عمدہ سبق ہوں۔یہ خواہش طالب علمی کے زمانہ سے میرے دل میں قائم ہو چکی تھی۔اس کے بعد جب میں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا تو یہ خواہش اور بھی ترقی کر گئی کیونکہ میں نے دیکھا کہ جو کارنامے مسلمان نوجوانوں کے ہاتھ پر ظاہر ہو چکے ہیں وہ ایسے شاندار اور روح پرور ہیں کہ ان کے مقابلہ پر مسیحی نوجوانوں کے کارناموں کی کچھ بھی حیثیت نہیں۔اور میں نے ارادہ کیا کہ جب بھی خدا توفیق دے گا میں اس کام کو کروں گا۔مگر افسوس ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک میری یہ خواہش عملی جامہ نہ پہن سکی۔بالآخر گذشتہ سال اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ تقریب پیدا کر دی کہ شیخ رحمت اللہ صاحب شاکر نے مجھ سے مشورہ پوچھا کہ میں آج کل رخصت کی وجہ سے فارغ ہوں۔مجھے کوئی ایسا مضمون بتایا جائے جس پر میں ایک مختصر کتاب لکھ کر اسلام اور احمدیت کی خدمت کرسکوں۔اس پر میں نے شاکر صاحب کو اپنی یہ خواہش بتا کر یہ تحریک کی کہ وہ اس موضوع پر مطالعہ کر کے کتاب تیار کریں۔اور میں نے چند ایسی کتابوں کے نام بھی بتا دیئے جس سے وہ اس مضمون کی تیاری میں مدد لے سکتے تھے۔اور انتخاب وغیرہ کے متعلق بھی مناسب مشورہ دیا۔اور مجھے خوشی ہے کہ شاکر صاحب نے مطلوبہ کتاب کے تیار کرنے میں کافی محنت سے کام لے کر ایک اچھا مجموعہ تیار کر لیا ہے۔میں نے اس سارے مجموعہ کو بالاستیعاب نہیں دیکھا مگر بعض حصے دیکھے ہیں۔اور بعض جگہ مشورہ دے کر اصلاح بھی کروائی ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ یہ کتاب نوجوانوں کے لیے مفید ثابت ہوگی۔یہ ایک فیصلہ شدہ بات ہے کہ کسی قوم کی مضبوطی اور ترقی میں اس کے نو جوانوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے اور یہ بھی ایک تسلیم شدہ بات ہے کہ نو جوانوں کی تربیت کا ایک بڑا عمدہ ذریعہ سلف صالح کی روایات ہیں۔جنہیں سن کر یا مطالعہ کر کے وہ اپنے اندر کام کی روح پیدا کر سکتے ہیں۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض مسلمان نوجوانوں نے انحضرت ﷺ کے زمانہ میں اور آپ کے بعد ایسے ایسے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں کہ ان کا ذکر پڑھ کر بے اختیار تعریف نکلتی ہے اور ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔بعض چھوٹی چھوٹی عمر کے بچوں نے ایسی ایسی خدمات صلى الله سرانجام دی ہیں کہ بڑے بڑے لوگ بھی ان میں ہاتھ ڈالتے ہوئے رکتے تھے۔دراصل بچپن کا زمانہ ایک بڑا ہی عجیب و غریب زمانہ ہوتا ہے جس میں ایک طرف تو نمو اور ترقی کی طاقت اپنا کام کر رہی ہوتی ہے اور دوسری طرف خطرات سے ایک گونہ بے پروائی کا عالم ہوتا ہے۔ایسے ماحول میں اگر انسان کے ذہن کو ایک اچھے راستہ پر ڈال دیا جائے تو وہ حقیقتا حیرت انگیز کام کر سکتا ہے اور اس ذہنی کیفیت کے پیدا کرنے کے لیے ایک طرف تو ایمان اور اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے اور دوسری طرف عملی نمونہ کی۔پس میں امید کرتا ہوں کہ جب ہمارے نوجوان سلف صالح کے کارناموں کا مطالعہ کریں گے اور انہیں اس بات پر آگاہی حاصل ہوگی کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں انحضرت ﷺ اور آپ www۔alislam۔org