پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 17
پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار آپ ہیں وہ جن کی آمد کی دُعا کرتے تھے ہم بھیج دے ہاں بھیج دے کی التجا کرتے تھے ہم آپ نے شیرازہ وحدت میں باندھا قوم کو کر دیا اپنی اخوت میں اکٹھا قوم کو آپ نے وحدت سکھائی اور ایکا قوم کو پھر وہی لذت ملی، تھا جس کا چسکا قوم کو ہے وہ نور خلافت تھا جو نور الدین میں تھی یہی حمکین یہی تمکین و شوکت مرد با تمکین میں اللہ اللہ اُس بڑھاپے میں وہ طاقت اور زور لوحش اللہ ایسی پیری میں وہ قوت اور زور تو کل کی بات ہے وہ اس کی شوکت اور زور ہم نے خود دیکھا ہے تھی جو اس میں سطوت اور زور کوئی اُٹھتا تو بیٹھا دیتا اُسے تادیب سے روٹھتا بھی تو منا لیتا تھا اک ترکیب سے قوم کا الغرض تھا ایک ہادی اور رہبر قافلہ سالار اک سالار لشکر قوم ایک تھا سردار قوم اور ایک سرور قوم کا ایک ہی تھا زینت محراب و منبر قوم کا اُس کو کہتے تھے مسیحا کا خلیفہ ہے یہی جانشین مهدی و موعود عیسی ہے یہی 17