مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page iv
ڈاکٹر عبد السلام میرے قلم کی نوک سے اس کتاب کا پہلا حصہ ڈاکٹر عبد السلام مرحوم و مغفور کے بارہ میں ان کے جاننے والوں، شاگردوں ، اعزاء، اور مداحوں کے دلی تا ثرات پر مبنی ہے۔دوسرے حصے میں ڈاکٹر صاحب کے قیمتی مضامین کے علاوہ چند اہم ، دلچسپ اور علمی افادیت سے بھر پور مضامین اور تیسرے حصے میں ان کی ذات والا صفات پر نظمیں پیش کی گئیں ہیں۔راقم الحروف کے ذہن میں موجودہ کتاب کا خاکہ ڈاکٹر صاحب کی رحلت کے معاً بعد ابھر آیا تھا اور میں نے مختلف رسالہ جات میں شائع ہونے والے چیدہ چیدہ مضامین کا انتخاب کرنا شروع کر دیا تھا۔رفتہ رفتہ مضامین اتنے جمع ہو گئے کہ بلآخران میں سے کچھ کا انتخاب میرے لئے درد سر بن گیا۔ہر مضمون نگار نے اپنے انوکھے رنگ میں اس نابغہ روزگار کی شخصیت کو اجاگر کرنے کی سعی کی تھی۔تاہم اس کتاب میں ایسے نوادر مقالات کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن میں مقالہ نویس اور ڈاکٹر صاحب کے درمیان ذاتی تعلق تھا۔یا جس مضمون سے اس عظیم انسان کی ہشت پہلو شخصیت میں سے ایک پہلو روشن ہوتا ہے۔پچھلے سال عاجز نے نوبل انعام یا فتہ سائینسدان شیلڈن گلاشو کو الیکٹرانک میل ارسال کی کہ مجھے وہ مضمون بھیجیں جس کا حوالہ سرن کی ویب سائٹ پر ملتا ہے۔میری ای میل کا جواب انہوں نے فوراً دیا اور لکھا کہ میں ایک ماہ کیلئے بوسٹن سے باہر جا رہا ہوں، اس لئے واپس آکر مضمون تلاش کر کے بھیجوا دوں گا کیونکہ وہ مضمون میرے ہارورڈ یونیورسٹی والے کمپیوٹر کی فائلوں میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔چنانچہ میں نے پورے ایک ماہ بعد ان کو اکتوبر ۲۰۰۲ء میں یاد دہانی کرادی اور انہوں نے مجھے وہ دلپذیرم مضمون بخوشی بھجوا دیا جو اس کتاب میں سر فہرست ہے۔اس کے بعد میں نے سٹیون وائن برگ کو ای میل بھیجی کہ اگر انہوں نے ڈاکٹر سلام کی شخصیت