مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 225 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 225

(۲۲۵) یہ کہتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ان سب کا سہرا پر وفیسر سلام کے سر ہے ورنہ شاید مجھے آج یہ عزت اور یہ مقام نصیب نہ ہوتا کہ پروفیسر سلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مدعو کیا جاتا۔پروفیسر سلام اگر چہ ہم سے بچھڑ گئے ہیں مگر انہوں نے تمام ترقی پذیر اقدام کو عملی راہ دکھائی۔اور وہ ہے اپنی مدد آپ اور صرف اپنے آپ پر بھروسہ کرنا ، اپنی پسماندگی کو دور کر نیکا مصمم ارادہ رکھنا اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم سائینس میں ترقی کے عروج کے کمال تک پہنچ جائیں۔اس امر کے لئے ضروری ہے کہ پاکستانی سائینسدانوں کے سینہ میں روشن چراغوں کو موافق حالات کار کی اتنی آکسیجن ملے کہ یہ بجھنے نہ پائیں۔بلکہ اور بھی فروزاں ہوں۔میں آخر میں یہ بر ملا کہہ سکتا ہوں کہ سائینس دان تو بے شمار ہوں گے مگر پروفیسر سلام جیسے صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تعبیر ہے جس کی حسرت و غم ، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم کتنے ہی مسافر چلتے ہیں، منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک اے اہل زمانہ ، قدر کرو، نایاب نہ ہوں کمیاب ہیں ہم saadat@khwarzimic۔org ---- ڈاکٹر عبد السلام ميموريل سو سائٹی کا اجلاس ربوہ۔ڈاکٹر عبد السلام میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام ربوہ میں ایک علمی نشست ۳۰ جنوری ۲۰۰۳ء کو منعقد ہوئی جس میں پروفیسر منور شمیم خالد نے ڈاکٹر سلام کے علمی کا رناموں پر ایک مقالہ پیش کیا، چند طلباء نے بھی اس موقعہ پر مقالے پڑ ہے۔میٹنگ کے آخر پر مکرم محبوب عالم خالد نے دعا کروائی۔روزنامه الفضل ربوه ۳ فروری ۲۰۰۳ء ، صفحه ۷ )