مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 3
(۳) اگر چہ ہماری بالمشافہ ملاقاتوں کو ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے لیکن میں اور عبد السلام ایک دوسرے سے خوب شنا سا تھے۔آج کی اس میٹنگ میں موجود میرے ساتھ کے شرکاء اس بات سے اتفاق کریں گے کہ عبد السلام بلاشبہ ایک روح پھونکنے والا اتالیق ، عالمی شہرت کا حامل سائینسدان ، آئی سی ٹی پی کے سینٹر کا خالق اور تمیں سال تک اس کی رہ نمائی کر نیوالا نیز تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک میں سائینس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کا چیمپئین تھا۔میں آج کے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کے سامنے چند ایک ذاتی اور ان مہکتی ہوئی یادوں کا ذکر کروں گا اس انسان کے متعلق جو نہایت با مروت، شریف النفس ، اور از حد مہربان تھا۔شاگرد کو نوبل انعام ۱۹۵۵ء میں جب میں نے جولین شو نگر Schwinger کے گریجوکیٹ سٹوڈنٹ کی حیثیت سے فزکس کی دنیا میں اپنے کیرئیر کا آغا ز کیا تو میرا تعارف والٹر ( گلبرٹ ) اور اس کی بیگم سیلیا Celia سے مشرق کے ایک پر اسرار اور حیرت انگیز انسان کے متعلق ہوا۔والٹر انہی دنوں کیمبرج (برطانیہ) سے کیمبرج (میسا چوٹس) نقل مکانی کر کے آیا تھا۔وہ اس وقت ہارورڈ یو نیورسٹی میں جونئیر فیلو تھا کیونکہ اس نے عبد السلام کے زیر نگرانی ڈاکٹرل ریسرچ کے پروگرام کو مکمل کیا تھا۔والٹر کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری سلام کے ماتحت ریسرچ کا کام کر کے ملی تھی اور وہ ہاروڈ یو نیورسٹی (بوسٹن ) میں تھور ٹیکل فزکس کا پروفیسر بن چکا تھا۔بعد میں اس نے اپنی فیلڈ مالیکیولر بیالوجی میں تبدیل کر لی۔۲۵ سال بعد سلام کو اس بات پر بجا فخر تھا کہ اس کے شاگر د و نو بل انعام خود اس کے نوبل انعام ملنے کے ایک سال بعد ملا تھا۔عبد السلام سے میرا پہلا ڈائر یکٹ انٹرایکشن اگر چہ میرے لئے شرمساری کا باعث ہوا تھا ، میں انٹر میڈیٹ ویکٹر بوسان پر مقالہ لکھنے کیلئے تحقیق کا کام نیشنل سائینس فاؤنڈیشن کے فیلو کی حیثیت کوپن ہیگن میں میلز بوہر انسٹی ٹیوٹ میں کر رہا تھا میرے ہائی اسکول کے ہم جماعت طالبعلم گیری فائین برگ Feinberg ( سٹیون وائن برگ waeinberg اس کے علاوہ) نے بھی اس موضوع پر ایک اہم تحقیقی پیپر شائع کیا تھا۔یہ پیپر میرے لئے کم از کم بہت اہمیت کا حامل تھا۔