مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 2 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 2

(۲) ان کو اپنی رائے اس ایڈریس پر آگاہ کر سکتے ہیں [Shelly Glashow [slg@bu۔edu مجھے بعض دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں ہمیشہ ہی سرن CERN میں رہتا ہوں۔چاہے ۱۹۵۹ء میں پوسٹ ڈاکٹر یٹ نوجوان کی حیثیت سے، یا پھر اچھا معارضہ ملنے والے وزٹنگ سائینٹسٹ کی حیثیت سے، یا پھر SPC کے ممبر کی حیثیت سے، یا پھر وقتاً فوقتاً وزٹ کرنے کیلئے ، کچھ بھی ہو ہر صورت میں میرا یہاں بہ حیثیت مہمان گرمجوشی سے استقبال کیا جاتا ہے۔مگر آج کے روز مجھے یہاں بلائے جانے پر بہت فخر ہے تا کہ آج ہم ایک جلیل القدر سائینسدان، اور انسانیت نواز شخص کی یاد کو تازہ کر کے اسے دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کر سکیں۔عبد السلام سے میری ملاقاتیں اگر چہ محدود تھیں مگر ان کا عرصہ پچاس سال پر محیط ہے۔ہمارا باہمی تعلق اگر چہ ایک ایک انٹر ایکشن تھا مگر اسکا لائف ٹائم بہت لمبا تھا۔میں عبد السلام کی کمی کو محسوس کرتا ہوں اور اس سے آنیوالی گلاب کے عطر کی خوشبو کو محسوس کرتا ہوں جو وہ لگایا کرتا تھا۔ہمارے سائینسی انٹریسٹ اکثر ایک دوسرے کے راستہ میں حائل ہو تے تھے۔بعض دفعہ وہ کشیدگی بھی پیدا کر دیتے مگر اس کے باوجود ہم دونوں گہرے دوست رہے اور سائینس کے معاملہ میں خاص طور پر ہمیشہ ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے تھے۔میں کف افسوس ملتا ہوں کہ میں اور عبد السلام پرنٹ یا خط و کتابت میں ایک دوسرے سے کبھی تعاون نہ کر سکے تا ہم میں نے لندن میں اس کو دو بار وزٹ کیا، دوبار ٹریسٹ میں اور اس کے علاوہ میری اس سے ملاقاتیں مختلف سائینسی کانفرنسوں، سمر سکولز اور سرن کی سائینس پالیسی کمیٹی کے فیلو ممبر ہونے کی حیثیت سے ہوتی رہیں۔اس کے علاوہ ہماری ملاقات سٹاک ہائم میں چار مرتبہ ہوئی۔یعنی ایوارڈ ملنے سے پہلے ایک یادگار کا نفرنس میں ، ہمارے خود انعام ملنے کا خاص موقعہ، پھر کارلو رو بیا Rubia اور سائمن وین ڈر میر Van der Meer کو جب انٹر میڈیٹ ویکٹر بوسان کی تجرباتی دریافت کے بعد نوبل انعام ملا اور جس کی وجہ سے ہمیں نوبل انعام کا ملنا بھی سچا ثابت ہوا، اور پھر سٹاک ہالم میں کچھ ہی عرصہ پہلے گرینڈ ری یونین۔