مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 292
(۲۹۲) ہو۔(ڈاکٹر سلام) آدمی کے خیالات اور نظریات پر اس کی ثقافتی میراث اور تمدنی روایات کا اثر ہوتا ہے (سلام )۔۔۔۔۔۔۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ ڈاکٹر کسنجر نے ۱۹۷۸ء میں عالمی اشترا کی ترقی کی ضروریات کے سلسلے میں امریکہ کی جانب سے وعدہ کیا کہ انواع و اقسام کے اداروں کا قیام عمل میں آئیگا۔جیسے انٹرنیشنل انرجی انسٹی ٹیوٹ انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایکس چینج آف ٹیکنا لوجیکل انفارمیشن انٹرنیشنل انڈسٹرالائزیشن انسٹی ٹیوٹ۔کسنجر نے ایسے اداروں کی ضرورت کے متعلق اظہار خیال کیا کہ : اس صدی کے رہے سہے سالوں میں کرہ ارض کو شمال اور جنوب میں بانٹ دینے کا مطلب شاید سرد جنگ کے سیاہ ترین دنوں سے بھی بدتر دور میں سے گزرنا ہوگا۔نتیجہ بڑا بھیا نک ہو گا۔۔۔باتیں تو بڑی ہوئیں مگر ان میں سے کسی پر بھی پر عمل نہ کیا گیا۔۱۹۸۳ء میں مراکش میں میری ملاقات ڈاکٹر کسنجر سے ہوئی تو میں نے ان کو ان کے کئے ہوئے وعدوں کی یاد دہانی کرائی اور خاص طور پر ادارہ توانائی کے قیام کے بارے میں ان سے گفتگو کی انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کے بارہ میں لکھو۔میں نے خط لکھا انہوں نے میرے خط کو رسیدگی سے نوازا اور کہانی ختم ہو گئی۔یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میرا باپ ایسا شخص تھا جو علم کا دلدادہ تھاوہ اگر چہ مجھے سرکاری افسر بنانا چاہتے تھے۔لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ میرا رجحان طبع سائینس کی طرف ہے تو پھر انہوں نے میری ہر ممکن حوصلہ افزائی کی۔میرے تایا جان جو بعد میں میرے خسر بھی بن گئے وہ بھی علم کے بڑے قدردان تھے ، اور ان سے میں نے بہت اثر قبول کیا۔اور پھر مجھ پر بڑے شفیق، محبت کرنے والے اور محنتی اساتذہ