مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 165
(۱۶۵) کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات کرنے کیلئے تیار ہیں تو میں ضرور آؤں گا۔قصہ مختصر سلام پاکستان آئے ان کی اور ان کے خاندان کی خوب آؤ بھگت ہوئی۔قائد اعظم یونیورسٹی کی طرف سے ان کو اعزازی ڈگری بھی دی گئی۔یونیسکو کیلئے الیکشن سن ۱۹۸۶ء میں یونیسکو کیلئے نئے ڈائریکٹر کا انتخاب ہونا تھا۔ڈاکٹر صاحب کا نام تجویز ہوا۔اٹلی کے وزیر خارجہ کی طرف سے ، اور کئی دوسرے ممالک کی طرف سے۔سلام صاحب کی نامزدگی کیلئے کوششیں ہونے لگیں۔حسن اتفاق سے وہ اس وقت ساری دنیا میں فرد واحد تھے جو اس پوزیشن کے مطلوبہ معیار پر پورے اترتے تھے۔افسوس کہ حکومت پاکستان نے ان کو نامزد کرنے سے انکار کر دیا کسی اور کو نا مزد کر دیا۔دوسرا شخص (یعقوب علیاں) بری طرح انتخاب ہار گیا۔یوں یہ معاملہ سیاست کا شکار ہو گیا۔سلام به حیثیت استاد مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے امپیرئیل کالج لندن سے پروفیسر عبد السلام کی سر پرستی میں تربیت حاصل کی۔اور پی ایچ ڈی کی سند پائی۔یہ سن باسٹھ کا زمانہ تھا۔میں نے پنجاب یونیورسٹی کی لیکچر شپ چھوڑ کر پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کی ملازمت اختیار کی اور فوراً بعد کولہو پلان سکالر شپ کے تحت اعلیٰ تعلیم کیلئے امپیریل کالج پہنچا۔یہ وہ زمانہ تھا جب سلام مرحوم اور ڈاکٹر عثمانی مرحوم نے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے تحت سائینس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے بہت سے پروگرام شروع کر رکھے تھے۔ان میں ایک اہم پروگرام بیرون ملک ٹریننگ تھا۔آج پاکستان میں بہت سے سینئر سائینسدان اور انجنئیر اسی پروگرام کی پیداوار ہیں۔اور سلام و عثمانی کی کوششوں کے مرہون منت ہیں۔میں نے پارٹیکل فزکس کا انتخاب کیوں کیا؟ یہ فیصلہ قدرتی بات تھی۔فزکس اور میتھ کا بیک گراؤنڈ ہو اور ہر طرف پروفیسر سلام کے چرچے ہو رہے ہوں اور حسن اتفاق سے ان کو سننے کا موقعہ بھی مل گیا ہو۔وہ پاکستان آئے تھے اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں ایک ولولہ انگیز لیکچر دیا سلام مرحوم یقینا نئی نسل کے ہیرو اور آئیڈیل بن چکے تھے۔یہی میرے انتخاب کی وجہ بنی۔