مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 82 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 82

(AP) تھیوری کے نمودار ہونے سے قبل بنیادی طور پر stable particle سمجھا جاتا تھا مگر یہ تھیوری کہتی ہے کہ ایسا ممکن نہیں بلکہ 1032 سالوں میں پروٹان ضرور فنا ہو جائیگا یہ بہت لمبا عرصہ ہے۔جبکہ کا 32 ئینات کی عمر 0 10 سال مانی جاتی، تو پھر خدایا 8 10 سالوں میں پروٹان زوال پذیر ہو جائیگا۔اس تھیوری کو تجرباتی طور پر دیکھنے اور پر کھنے کے لئے آپ کو 32 10 پروٹان کی ضرورت ہے جن کا مشاہدہ ایک سال کیلئے کیا جائے، قبل اس کے کہ ان میں سے ایک زوال پذیر ہو جائے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک انڈین ایکس پیری منٹ کے مطابق جو سات ہزار فٹ گہرائی میں واقع Kolar Gold field mine تجربہ گاہ میں تین ایسے واقعات مشاہدہ میں آئے ہیں جن میں پروٹان کو زوال پذیر ہوتے دیکھا گیا ہے۔پھر جاپان میں ایک تجربہ کیا گیا ہے، جس میں ایک بار ایسا ہوتا دیکھا گیا پھر امریکہ میں ایسے ہی اہم تجربات کے گئے جن میں ایسا ہو تے بلکل نہیں دیکھا گیا۔تو پھر آپ کسی بات اور تجربہ کو قابل وثوق مانتے ہیں؟ تجر بات کرنا جان جوکھوں والا کام ہے مجھے خود علم نہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا مگر یہ ایک فیصلہ کن تجربہ ہے تو اس لحاظ سے یہ بات عین ممکن ہے کہ بعض تجر بات شاید غلط تھے یا پھر ان کی تعبیر غلط تھی یا پھر ہمیں اور مزید اشارات کے ملنے کے لئے انتظار کرنا ہوگا۔سوال۔۔۔آپ ایک تھیوری ٹیشن ہیں آپ یہاں پر سکون بیٹھے ہیں۔اور ادھر ماہر تجربہ کار سائینس دان آپ کی تھیوریز کو ٹیسٹ کر رہے ہیں ان دیو قامت مشینوں کے ذریعہ تجربات کرنا، ان لوگوں کے لئے ضرور مشکل ہو گا جب وہ کوئی تحقیقی کام شائع کرتے ہیں تو اس پر ۵۰ یا ۰۰ مصریفین کے نام لکھے ہوتے ہیں کیا ان لوگوں کو ایسا کرنا برا لگتا ہے؟ جواب۔۔۔میرے خیال میں بہت سے تجربہ دان اس صورت حال سے مطمئن نہیں ، ان میں سے بہت سارے پرانے طریق کار سے زیادہ اتفاق کریں گے جب ایک دو یا تین اشخاص تجر بہ کرنے میں ایک دوسرے سے معاونت کرتے اور اس سے محظوظ ہوتے تھے مگر اب صورت حال بہت مختلف اور آپ بے یار و مددگار ہیں آپ کو تجربہ کرنے کے لئے بہت سارے سائینس دانوں کی ضرورت ہوتی