مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 56 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 56

(۵۶) ہماری والدہ صاحبہ کو ہم سے جدا ہوئے 9 سال کا عرصہ ہو نیوالا ہے۔حضرت ابا جان کو بھی گزرے ۱۶ سال ہو گئے ہیں۔ان کی شفقت اور محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ تازہ رہے گی۔اے خدا تو ان پر اپنے فضلوں کی بارش کر۔اور اپنے قرب میں جگہہ دے۔ہمارے لئے دعاؤں کا ذخیرہ چھوڑ گئے ہیں وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے اور ہم اس کے اہل ہوں۔جب بھائی جان علیل ہوئے اور خط خود نہ لکھ سکتے تھے تو ہر سال اس طرح کا خط محترمہ بھائی جان امتہ الحفیظ صاحبہ یا عزیزم عبد الرشید سے لکھوایا کرتے تھے۔بیماری کے شروع میں ان کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کام نہیں کرتا تھا۔اس میں گرفت نہیں تھی یہاں آئے تو میں نے کہا بھائیجان یوں کرتے ہیں کہ ہم دونوں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں آپ میرا انگوٹھا اپنے ہاتھ پر لگوالیں۔اور اپنا انگوٹھا میرے ہاتھ پر۔کیونکہ آپ نے تو لکھنا ہوتا ہے بہت ہی حیرت اور محبت سے آنکھیں اٹھا کر مجھے دیکھا اور مسکرا بولے کبھی ایسا ہوسکتا ہے۔بس تم میرے لئے دعا کرو۔یوں وہ کبھی اپنی تکلیف کا اظہار از خود نہیں کرتے تھے۔ان کی سادگی کا عالم تو یہ تھا جب بھی اپنے وطن جھنگ تشریف لاتے تو اپنے ہر ملنے والے کو گلے لگا کر ملتے بغیر اس خیال کے جو مل رہا ہے اس کے کپڑے پسینہ اور مٹی سے شرابور ہیں اور گلے لگا کر ملنے سے ان کے اپنے کپڑے ملنے والوں کے کپڑوں کے نقش و نگار اپنے اوپر لے لیں گے۔ملتے ساتھ ہی پوچھتے : خیراے خیراے۔۔یہ ان کا مخصوص فقرہ ہوتا تھا۔ملنے والا آدمی اگر ان کے خیال میں مستحق ہوتا تو جیب سے کچھ رقم نکال کر خموشی سے اسکی مٹھی میں دے دیتے۔اور اس کے منہ سے اسلام سدا جیویں، سدا خوش رھویں کی دعا نکلتی تھی۔نیکی کر کے جتانا تو ان کا شیوہ ہی نہ تھا۔جہاں تک میرا علم ہے ان کے بچپن کے اساتذہ کرام کو ان کی طرف سے ہر ماہ معقول رقم خاموشی سے دی جاتی تھی۔یہ ان کی فطرت کا خاصہ تھا۔والدین اور جملہ وفات یافتگان افراد خاندان کی طرف سے چندہ بھی وہ با قاعدہ ادا کر تے تھے لیکن خموشی سے۔جب بھی کراچی آنا ہوتا ان کے میزبان اور کئی احباب ان کے استقبال کیلئے ائیر پورٹ پر