مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 55 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 55

(00) کے دلوں میں بھائیجان کیلئے محبت اور عزت کا ایک مقام پیدا کر دیا تھا۔ہم ان کے ایک اشارہ پر ہی ان کا ہر ایک کام کر دیتے تھے۔بلکہ فخر کرتے تھے کہ ہم اپنے بھائی کا کام کر رہے ہیں۔اس وقت تک تو ہمیں ان کی شخصیت کا کوئی خاص علم نہیں تھا ما سوا اس کے کہ ہمارے بڑے بھائی ہیں۔وہ خود والدین کے ہر حکم کی تعمیل بجالاتے تھے۔یہی ہمارے لئے مشعل راہ تھا۔فطرتاً سادگی پسند، کوئی ناز نخرہ نہیں ، کوئی اکڑ فوں نہیں۔سیدھے سادے طالبعلم۔ہر بات میں سادگی ، البتہ کھانے میں جو پسند ہوتا تھا وہ ضرور کھاتے تھے۔محترمہ والدہ صاحبہ کو بھی اپنے سلام کی پسند کا ہمیشہ احساس ہوتا تھا۔گو کہ وہ اس کا اظہار نہیں کرتی تھیں۔لیکن ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ بھائی جان کی پسند میں ماں کی محبت ظاہر ہے بلکہ ہم خود اس بات میں حصہ دار ہوتے تھے کہ کھانے کے معاملہ میں بھائیجان کی پسند کو ہی اولین درجہ دیں۔میرا انگوٹھا آپ لگوالیں وہ ابا جان کے بہت زیادہ تابعدار اور لاڈلے تھے۔ہم سب اس بات پر خوش ہوتے تھے۔میرے والدین بہت ہی دعا گو و جود تھے۔بھائی جان کے ساتھ اباجی کا سلوک ایک عاشقانہ رنگ رکھتا تھا۔لا ہور ، لندن یا کسی اور جگہہ سے تعلیم کے دوران جب بھی بھائی جان کا خط آتا تو ہمیشہ اللہ کا نام لے کر کھولتے تھے۔اور ہر لفظ پر الحمد للہ کہتے جاتے تھے۔کہ اس خط میں ان کی طرف سے تعلیمی ترقی کی باتیں ہوں گی جس کا شکر وہ ادا کر رہے ہوتے تھے۔پھر وہ خط ہم سب کو پڑہنے کیلئے دیا جا تا۔جواب میں ائر لیٹر کا ایک حصہ ابا جی خود لکھتے چند سطریں ہم سب بھائی بہن لکھتے جس میں ان کیلئے دعا ئیں اور اپنا اپنا حال لکھا جاتا تھا۔وہ بھی باقاعدہ ہم سب کو جواب لکھتے اس وقت میرے سامنے ان کا ایک پرانا خط موجود ہے۔ان کی مندرجہ ذیل نیک عادت کا اگر ذکر نہ کروں تو ناشکری ہوگی۔ہر سال والدین کی وفات کی سالگرہ پر ہم سب جہاں ہوتے وہ خط کے ذریعہ ہم کو یاد دہانی کراتے۔میرے سامنے جو خط ہے وہ ۲۴ ستمبر ۱۹۸۵ء کا لکھا ہوا ہے، جس میں انہوں نے لکھا: