مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 53
(۵۳) اللہ کریم نے اپنے عاجز بندے عبد السلام پر بے شمار فضل اور نوازشیں برسائیں ان کی زندگی مثمر با ثمرات اور اچھی تھی۔ان کی رحلت بھی باعزت اور باوقار تھی۔ان کو جو الوداع ملا شاید اس سے وہ خود بھی وفور جذبات سے بھر جاتے ان کے لندن سے ربوہ کے بہشتی مقبرہ تک کے آخری سفر کو میں کبھی بھی چشم تصور سے ہٹا نہیں سکتی ربوہ سڑک کے دونوں کنارے ہزاروں ہزار احباب کا لائن بنا کر کھڑے ہونا تا وہ ان کو آخری الوداع کہہ سکیں واقعی جذبات سے بے قابو کر نے والا منظر تھا۔نماز جنازہ میں تھیں ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی پھر ان کو ان کے والد مرحوم کے ساتھ والی لحد میں ابدی نیند سلا یا دیا گیا۔یوں وہ والدہ کے قدموں میں سلائے گئے جیسا کہ انہوں نے خواہش کی تھی۔اللہ نے ان کی آمد اور رحلت کی خبر دی تھی۔جس رات ابا جان کی وفات دو بج کر پینتالیس منٹ پر ۲۱ نومبر ۱۹۹۶ء کو ہوئی اس رات میرے چا محمد عبد الرشید جوابی کے چھوٹے بھائی ہیں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دادا آئے ہیں انہوں نے دیدہ زیب لباس پہنا ہو ا تھا اور بہت خوش نظر آ رہے تھے۔انہوں نے پنجابی میں گویا اعلان کرتے ہوئے ) کہا۔سلام پہنچ گیا اے۔( یعنی سلام پہنچ گیا ہے )۔اللہ جل شانہ ان کی روح کو اعلیٰ (روحانی) انعامات سے نوازے اور مولیٰ کریم جماعت احمد یہ کو بہت سارے عبد السلام نوازے آمین اللهم آمین یا ارحم الراحمین