مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 35
(۳۵) Overlapping divergences کا حل پیش کر کے ہکا بکا کر دیا تھا۔اس کی زیرک فہمی کا مظاہرہ دوبارہ اس وقت ہوا جب اس نے اپنا مشہور زمانہ ہائی پاتھے سر تجویز کیا کہ تمام نیوٹران بائیں ہاتھ والے ہوتے ہیں۔جسکا مطلب یہ تھا کہ۔violation of parity in weak interactions سلام وہ واقعہ ہمیشہ بڑے شوق سے سنایا کرتا تھا جب وہ مشہور فرسٹ دولف گانگ پالی سے ملنے زیورک گیا اور اس کے سامنے ٹو کمپونینٹ نیوٹرینو تھیوری کا آئیڈیا پیش کیا۔یا یوں کہیں کہ عاجزانہ طور پر پیش کیا ) پالی Pauli نے اس نوجوان سائینس دان کو اپنے آفس سے بغیر کسی تامل کے یہ طعنہ دے کر خارج کر دیا کہ یہ نوجوان sanctity of parity کا ذرا بھی ادراک نہیں رکھتا ہے۔چنانچہ سلام نے اپنی تھیوری کی اشاعت کو التواء میں ڈال دیا تا وقتیکہ Lee and Yang سائینس دانوں نے پیری ٹی وائیولیشن پر تقدس کا لبادہ اوڑھ دیا۔اس چیز نے سلام کو یہ سبق سکھلایا اور وہ اسکا ذکر اپنے طلباء سے بار بار کیا کرتا تھا کہ وہ اپنے عمر رسیدہ (اساتذہ) کی باتوں پر زیادہ دھیان نہ دیا کریں ( مجھے قوی امید ہے کہ کم از کم اس طالبعلم نے اس نصیحت پر ضرور عمل کیا ہے ) اس واقعہ نے اسے یہ سبق بھی سکھلایا۔کہ سائینس کی فیلڈ میں پبلش آرپیرش ا کا اصول مد نظر رکھنا چاہئے۔چنانچہ اس کی سائینٹیفک آؤٹ پٹ گراں قدر تھی، جو کہ ڈھائی سو کے قریب اعلیٰ مضامین پر حاوی ہے۔ریسرچ ورک Publish or Perish بلا شبہ وہ تحقیقاتی کام جس کی وجہ سے اسے ۱۹۷۹ء کا نوبل انعام ملا۔اور جو اس نے گلا شو اور وائن برگ کے ساتھ شیر کیا اور جو الیکٹرو و یک یونی ٹیکسیشن کے موضوع پر تھا یہ ایک موضوع اس کے دیگر مستقل انٹریسٹ میں سے ایک تھا یعنی : ری نار مالائز یشن renormalization گیج تھیوریز guage theories کائرائیلٹی chirality اس سے پہلے اس کا ریسرچ ورک جو اس نے گلیڈسٹون اور وائن برگ کے ساتھ ۱۹۶۰ء میں