مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 313
(۳۱۳) کیا ہے تو میں نے اس کو لکھا کہ وہ اپنے ذہن میں ٹریسٹ شہر کو بھی رکھے۔چنانچہ ہم دونوں نے مل کر تعاون کے ساتھ کام شروع کیا ۱۹۶۱ء، ۶۲ ء ، اور ۶۳ء میں ہمیں IAEA، وی آنا کے سامنے سفارتی جنگیں لڑنا پڑیں۔چونکہ اس ادارے کے سیشن طویل ہو جایا کرتے تھے اسلئے سلام ڈھیر سارے انگور اپنے ہمراہ لے آیا کرتا تھا ، تا وہ انرجی حاصل کر سکے۔ایک روز تو سیشن بہت ہی لمبا ہو گیا مگر فتح ہماری ہوئی۔اس کے بعد سلام نے مجھ سے کہا: Paolo, ask your friends in the municipality of Trieste to dedicate to us two tombs here in the Park of Miramare, where we can rest at the end of our lives۔۵۱ عرب ممالک میں امراء اور حکمران بڑے بڑے محل تعمیر کر رہے ہیں، کاش کوئی سائینس کا محل بھی تعمیر کر سکتا۔یہ لوگ مغرب سے لڑنے کی باتیں کرتے ہیں مگر سائینس کی بات کوئی بھی نہیں کرتا۔سلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۵۲ ڈاکٹر سلام نے اسلامک کامن ویلتھ آف سائینس کا سنہرا خواب دیکھا تھا جس کے قیام کیلئے انہوں نے اسلامک سائینس فاؤنڈیشن کا بلیو پرنٹ تیار کیا تھا۔اسلامی ممالک میں سائینس کی نشاۃ ثانیہ کیلئے انہوں نے پانچ شرائط کا ذکر فر مایا تھا: ,Passionate commitment, generous patronage self-governance, and internationalization of the scientific enterprise۔ڈاکٹر عقیلہ اسلام، سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج فار ویمن ، کراچی نے بیان کیا: ۱۹۵۸ء میں کراچی میں ایک سائینس کانفرنس منعقد ہوئی جس کا افتتاح پرنس فلپ نے کیا۔جملہ نامور شرکاء میں جولین بکس لے Hudoy کے علاوہ ڈاکٹر عبد السلام نے بھی لیکچر دیا۔پاکستان کے کئی ایک ابھرتے ہوئے سائینسدانوں نے بھی شرکت کی۔جب ڈاکٹر سلام نے لیکچر دینا شروع کیا اس وقت ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔آپ کے لیکچر کا موضوع Matter & Anti-matter تھا تمام لیکچر بہت ہی مشکل اور ٹیکنیکل تھا۔مگر اس کے باوجود ان کی طلسماتی شخصیت اور جوانی کی عمر کے باعث لوگوں کا وہاں جم غفیر تھا