مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 312
(۳۱۲) بڑھ چڑھ کر ان کے علمی کارناموں پر خراج تحسین پیش کیا۔ان کو الوداع کہنے کیلئے ایک طویل قطار بن گئی۔تمام سائینسدان آہستہ آہستہ آگے بڑہتے جا رہے تھے ، ڈاکٹر صاحب علالت کی بناء پر وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے تھے۔لوگ ان کے سامنے آکر رکتے اور الودائی الفاظ میں ان سے رخصت لیتے اور آگے گزر جاتے۔ایک پاکستانی کیلئے یہ عقیدت اور عزت و احترام ، چشم فلک نے یہ نظارہ کب دیکھا ہوگا۔اس تقریب میں پروفیسر ہود بھائی بھی موجود تھے۔آپ نے بتلایا کہ کسطرح ایک نوجوان پاکستانی طالبعلم بھی آپ کے پاس پہنچ گیا اور جھک کر ڈاکٹر سلام سے کہا: سر پاکستان کو آپ پر فخر ہے۔پاکستان کا لفظ سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں سے آنسو نکل کر رخسار پر بہنے لگے۔۴۹ ما ہر علم و ادب ، پر وفیسر خواجہ مسعود نے بیان کیا: مختلف ممالک نے کوشش کی کہ ڈاکٹر سلام ان کے ملک کی شہریت لے لیں۔مثلاً جواہر لال نہرو نے کہا کہ ڈاکٹر سلام تقسیم ہند سے پہلے تو بھارتی تھی۔ایک دفعہ انڈیا آجائیں ہم جیسا ادارہ کہیں گے بنا دیں گے۔لیکن ڈاکٹر صاحب بھلا کہاں ماننے والے تھے۔بلکہ ہم نے ان کی علالت کے دوران انڈین اخبارات کے تراشے دیکھے ہیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے بار بار کہا تھا کہ ہم آپ کو ۳۰۰ کروڑ روپیہ کی آفر دیتے ہیں، ہم سلام یو نیورسٹی سری نگر میں بنا ئیں گے۔لیکن ڈاکٹر صاحب نے کہا آپ میرے نام پر جو مرضی بنا ئیں میں اول و آخر پاکستانی ہوں۔(دی نیوز ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹) پروفیسر پاؤلو بوڈینک Prof۔Paolo Budinich جن کو آئی سی ٹی پی کا معاون فاؤنڈر تسلیم کیا جاتا ہے ، اور جو سترہ سال تک اس کے ڈپٹی ڈائر یکٹر رہے۔ڈاکٹر سلام کے ساتھ ان کی دوستی کا عرصہ ۳۵ سال پر محیط ہے۔انہوں نے بیان کیا: جب مجھے پتہ چلا کہ عبد السلام نے اقوام متحدہ کے ماتحت چلنے والے ایک ادارے کا منصوبہ تیار