مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 311 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 311

(۳۱۱) انرجی کمیشن کے بھی ممبر تھے۔انہوں نے PINSTECH کے قیام کے لئے جگہہ کا انتخاب کیا۔انہوں نے پہلے ری ایکٹر KANUPP کے حاصل کرنے میں ہر ممکن مدد کی۔انہوں نے گورنمنٹ کو مائل کیا کہ وہ سائینسدانوں کو بیرون ملک ٹرینگ کے لئے بھیجے۔پھر ان سائینسدانوں کو بیرون ملک یو نیورسٹیوں اور لیبارٹریز میں ذاتی تعلق کی بنیاد پر داخلے دلوائے۔انہوں نے SUPARCO کے محکمہ کی بنیاد رکھی۔انہوں نے صدر ایوب خاں سے کہا کہ سیم و تھور کے مسئلہ کے حل کیلئے امریکی سائینسدانوں سے مدد لیں۔انہوں نے نتھیا گلی میں سمر کالج کے انعقاد کا انتظام کیا جو پچھلے ستائیس سال سے منعقد ہو رہا ہے۔انہوں نے نیو کلئیر پروسسنگ پلانٹ کیلئے بلیو پرنٹ تیار کیا مگر صدر ایوب خان نے اس کو ملتوی کر دیا۔۱۹۷۰ء میں انہوں نے پاکستان کی سائینس پالیسی کیلئے جامع رپورٹ مرتب کی جو نیشنل سائینس کونسل آف پاکستان نے شائع کی۔۱۹۷۳ء میں انہوں نے اسلامک سائینس فاؤنڈیشن کے قیام کی تجویز پیش کی۔ان کی تجویز پر ہی منسٹری آف سائینس اینڈ ٹیکنالوجی الگ قائم کی گئی تھی۔جب پاکستان کا سب سے پہلا راکٹ رہبر خلاء میں گیا اس وقت جائے مقام پر سلام اور عثمانی دونوں کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔پیکنگ میں چائینیز اکیڈیمی آف سائینس نے ڈاکٹر سلام کے اعزاز میں استقبالیہ دیا اس میں وزیر اعظم چواین لائی شریک ہوئے۔لیکن چین کے صدر نے بھی پروٹوکول کے تمام تکلفات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس پروقار تقریب میں شرکت کی، اور آپ کے خطاب کو سامعین میں بیٹھ کر سنا۔۔اسی طرح جب ڈاکٹر سلام جنوبی کوریا گئے تو وہاں کے صدر مملکت نے دوران ملاقات ان سے خاص طور پر پوچھا کہ وہ انہیں مشورہ دیں کہ کسطرح تحقیق اور علمی کارنامہ کے ذریعہ ایک کورین شہری بھی انعام حاصل کر سکتا ہے۔۔۴۸ ۱۹۹۴ء میں ڈاکٹر صاحب کی آئی سی ٹی پی سے ریٹائر منٹ پر ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔اس موقعہ پر دنیا کے مختلف قوموں اور ملکوں کے نمائندوں اور سائینسدانوں نے شرکت کی۔اور سب نے