مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 293
(۲۹۳) کا سایہ رہا۔مجھے مولوی عبد الطیف بار بار یاد آتے ہیں جنہوں نے مجھے آٹھویں جماعت میں پڑہایا تھا میں نے جب ایک سوال ایک منٹ میں کر دکھایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔انہوں نے جیب سے ایک پیسہ نکال کر مجھے انعام دیا اور آبدیدہ ہو کر کہا اگر میرے پاس کچھ اور ہوتا تو وہ بھی دے دیتا۔میں ایک بار پلاننگ کمیشن کے سابق چیر مین سے ملنے گیا اور ان کو سائینسدانوں کو پیش رہائش کے مسائل سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ وہ ان مسائل کو دور کریں۔انہوں نے جواب دیا کہ کراچی کی نصف آبادی فٹ پاتھ پر سوتی ہے وہ بھی وہاں سو جائیں۔ایک اور موقعہ پر میں نے ان سے کہا کہ وہ انڈسٹریز لگانے کے معاملے میں جن میں سائینسی علم استعمال ہوتا ہے ان کے لگانے سے قبل ان سے مشورہ کریں۔انہوں نے کھر ا سا جواب دیا: میں سائینسدانوں سے کیوں مشورہ کروں؟ میں اپنے گھر میں باورچی سے کھانے کے معاملہ میں کوئی مشورہ نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔میں اور نگ زیب عالمگیر کے دربار میں ۱۶۹۰ء میں رونما ہونیوالا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔دربار کے ایک بڑے رتبہ والے درباری نے بادشاہ سلامت سے درخواست کی کہ وہ دو، درباریوں کو برخواست کر دیں کیونکہ وہ زرتشتی ہیں اور آگ کی پوجا کرتے ہیں۔درباری نے اپنی دلیل کے حق میں قرآن پاک کی یہ آیت کریمہ پیش کی۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو میرے دشمن اور اپنے دشمن کو کبھی دوست نہ بناؤ۔تم ان کی طرف سے محبت کے پیغام بھیجتے ہو جبکہ وہ حق کا جو تمہارے پاس آیا انکار کر چکے ہیں۔وہ رسول اور تمہیں ( وطن سے) در بدر کرتے ہیں محض اسلئے کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے۔اور نگ زیب نے یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ تم نے اس آیت کا مفہوم ہی نہیں سمجھا کیونکہ اسی آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: اگر تم میرے راستے میں اور میری رضا چاہتے ہوئے جہاد پر نکلے ہوئے ہو اور ساتھ ہی انہیں محبت کے خفیہ پیغام بھیج رہے ہو جبکہ میں سے سب زیادہ جانتا