مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 281 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 281

(۲۸۱) لاطینی اور اب عرب تھا جو گیارہویں، بارہویں اور تیر ہو یں صدیوں میں وہاں پہنچایا گیا۔اور جس کے بغیر یوروپ میں نشاۃ ثانیہ کبھی بھی ظہور میں نہ آسکتی۔مسٹر ہین Heaton نے اپنی کتاب اکنامک ہسٹری آف یوروپ میں بیان کیا ہے : نارتھ کے ممالک سائینس میڈیسن ، زراعت ، انڈسٹری ، اور سوے لائن ڈلیونگ اگر کچھ سیکھنا چاہتے تھے تو ان کو اس کے لئے چین جانا پڑتا تھا۔اور یہ امر واقعہ تھا کیونکہ انگلینڈ، سکنڈے نیویا ، جرمنی، فرانس کے طلباء پین کو بھاگے جاتے تھے تا سائینسی علوم سیکھ سکیں۔Adelard of Bath عربی زبان سے لاطینی اور کا ستیلین Castilian زبانوں میں کتابوں کے تراجم کرنے کے لئے ایک زبر دست مہم شروع ہو چکی تھی۔ان تراجم کا کام طلیطلہ کے شہر میں شروع ہوا جہاں آرک بشپ آف ٹولیڈورے منڈ اول 1 Raymond نے اس کام کی قیادت سنبھال لی۔ٹولیڈو میں جن سکالرز نے کام کیا ان میں ایک تو ایڈے لارڈ آف ہاتھ جس نے اقلیدس کی کتاب کا عربی سے ترجمہ کرنے کے علاوہ الخوارزمی کے الجبرا اور ٹریگنومیٹری کا ترجمہ کیا نیز اس کے ساتھ رابرٹ آف چیسٹر Robert of Chester اور جیرارڈ آف کیریمونا Gerard of Cremona اور جان آف سویل John of Seville بھی اس کام میں مصروف کار رہے۔اس تحریک کی معاونت کنگ الفانسو دہم نے کی جو لیون اور کاسٹیل کا بادشاہ تھا۔جس نے ان لا تعداد تراجم کے پیش لفظ خود لکھے اور جس نے ۱۲۷۲ء میں الزرقالی کی ستاروں کی زج کی جگہہ الفانسو کی زج تیار کروائی۔اس سائینسی کام میں ایک اور قابل غور چیز یہ ہے کہ ذرا ان دانشوروں کے ناموں میں یہودی سکالرز کے ناموں کو غور سے دیکھیں جنہوں نے اسلامی سائینس کے بنانے اور سکالر شپ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔مثلاً میں نے ابن جبرئیل، ابن شہروت، موسیٰ ابن میمون کی کتابوں کا ذکر کیا ہے خاص طور پر مؤخر الذکر نے یہودی تھیولوجی میں سب سے اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے۔یہ بات دلچسپی کی حامل ہے کہ موسیٰ ابن میمون (متوفی ۱۲۰۴ء) نے یہودی تھیولوجی کی معرکۃ الآراء کتاب Guide to the perplexed دلالتہ الحیرین کو عربی زبان میں لکھا تھا۔اس کا بعد میں عبرانی میں ترجمہ ہوا، میرے